بلاگ ‘یاسر عمران مرزا’ کی تمام تحاریر

یاسر عمران - آئی فون سے خلا تک کا سفر

Dec
18

گورے بڑے عجیب و غریب دماغ کے ہوتے ہیں اور عجیب و غریب حرکتیں کرتے رہتے ہیں، مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کی یہی خر دماغی نئی نئی سائنسی ایجادات، مشاہدات انکشافات اور معلومات دینے کا باعث بنتی ہے.

ایسے ہی کچھ خر دماغ گوروں نے آئی فون کو غبارے سے باندھ کر خلا میں بھیجا. جی ہاں خلا میں. اور اسکی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ آئی فون کی کیمرے کی مدد سے ہوتی رہی. اس تجربے کو کرنے کے لیے انہوں نے آٹھ ماہ تک تحقیق کی، موسمی حالات کا جائزہ لیا پھر انہوں نے آئی فون کو ایک سخت غلاف والے ڈبے میں بند کیا. اس کے کیمرہ کا رخ زمین کی طرف کر دیا. اور اسکو ایک طاقتور موسمی غبارے سے باندھ کر چھوڑ دیا. یہ غبارہ تیز رفتار سے اوپر اٹھتا چلا گیا. اس نے پہلے ہلکے بادلوں کو کراس کیا. پھر گہرے بادلوں سے ہوتا ہوا کرہ ہوائی کے اوپری غلاف میں‌پہنچا. جہاں اسکا سامنا تیز ترین طوفانی ہوائوں سے تھا جن کی رفتار سو میل فی گھنٹہ تک ممکن تھی. اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک تھا. اس غبارے کی لوکیشن سے آگاہ رہنے کے لیے گوروں نے اس میں جی پی ایس ڈیوائس بھی نصب کر رکھی تھی جس کا مسلسل رابطہ سیٹلائٹ کے ساتھ رہا. بالاآخر مسلسل ستر منٹ تک افقی پرواز کرنے کے بعد غبارہ پھٹ جاتا ہے اور یہ چھوٹا سے جہاز ایک لاکھ فٹ کی بلندی سے نیچے گرنے لگ جاتا ہے. یہ بلندی قربیا زمین سے 19 میل بنتی ہے. اسکے گرنے کی رفتار ایک مقام پر ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ سے تجاوز کر جاتی ہے. بالاآخر پیرا شوٹ کھلتا ہے اور یہ رفتار بتدریج کم ہوتی ہوتی پندرہ میل فی گھنٹہ رہ جاتی ہے. جی پی ایس سگنل سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چھوٹا سا خلائی جہاز چھوڑے جانے والے مقام سے 30 میل دور ایک مقام پر گرنے والا ہوتا ہے. زمین پر گرنے سے دو منٹ پہلے آئی فون کی بیٹری جو کہ ٹھنڈی تیز ہواؤں کی وجہ سے یخ بستہ ہو چکی ہے اور اس نے 100 منٹ کی ویڈیو ریکارڈ کر لی ہے جواب دے جاتی ہے. بعد ازاں گورے کافی تگ و دو کے بعد اپنے اسے غبارے اور آئی فون کو تلاش کر لیتے ہیں اور اس سے یہ دلچسپ اور مزیدار ویڈیو حاصل کرتے ہیں. ضرور دیکھیے.

اس ویڈیو میں غبارہ چھوڑے جانے کا منظر 2:20 سیکنڈ پر شروع ہوتا ہے.

اپ ڈیٹ : منیر عباسی صاحب کا توجہ دلانے کے لیے شکریہ۔ اس ڈیوائس میں کیمرہ الگ سے موجود تھا اور آئی فون کو مقام کی ٹریکنگ کرنے کےلیے استعمال کیا گیا۔

اس سے ملتی جلتی تحاریر

کیا انسان کا چاند پر قدم رکھنا حقیقت ہے

Airblue plane crash-updated pictures

Global Science Magzine Launched new Website

Filed under: Technology, Urdu Tagged: iphone 3gs to space, iphone ballon, iphone space, ipohone recording, Urdu, آئی فون, آئی فون کیمرہ, آئی فون تھری جی ایس, انسان چاند پر, خلا, خلا کا سفر, خلا باز, خلائی جہاز, خلائی جھاز, غبارہ

Comments Off

یاسر عمران - سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟

Dec
16

اس حقیقت کے باوجود کے بھارتی ٹی وی چینلوں پر پیش کیے جانے والے ڈارامہ سیریلز پاکستان میں‌بکثرت دیکھے جاتے ہیں۔ مجھے ان ڈراموں کو پاکستان میں پیش کیے جانے پر سخت اعتراضات ہیں۔ان ڈرامہ سیریلز کی خاص بات ان کی بار بار بدلتی کہانی اور قسطوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ اس طرز کے سیریلز کی شروعات بھارتی چینل سٹار پلس نے کی، بعد ازاں‌بھارتی گھریلو خواتین میں‌مقبول ہونے کے بعد اسی انداز کو دیگر کئی ٹی وی چینلز نے بھی اپنا لیا جن میں‌ذی ٹی وی، این ڈی امیجن ٹی وی اور دیگر کئی چھوٹے بڑے ٹی وی چینل شامل ہیں۔ ان ڈراموں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ فلموں میں ناکام ہونے والے اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان ڈراموں میں‌اپنی قسمت آزمانے لگے۔اگرچہ ان ڈراموں سے بہت سے بے روزگار بھارتی نوجوانوں کو کام کی سہولت میسر آ گئی وہیں ادا کاری کا معیار کم ہوتا چلا گیا۔ اور لڑکیوں‌نے زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش میں‌ اپنی جسمانی خوبصورتی کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کر دیا۔ خوبصورتی کو نمایاں‌کرنے کےلیے ننگ دھڑنگ ڈانس، بھڑکیلے ملبوسات، اور زیورات کا استعمال زیادہ ہو گیا۔

ایسا کرنے سے ڈرامہ دیکھنے والوں کے صارفین میں اضافہ ہوا اور یوں اس کاروبار کو تقویت ملنے سے اس سے جڑے ہر فرد کے لیے یہ ڈرامہ سیریلز روزی کا وسیلہ بن گئے جس کا نتیجہ آج ہم بے شمار بھارتی ٹی وی چینلز اور بے بہا ڈرامہ سیریلز کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ بھارتی معاشرہ ہندؤں پر مشتمل ہے اس لیے ان کی ثقافت اس چیز پر زیادہ اعتراض‌نہیں کرتی۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے یہ ڈرامہ سیریلز کسی طرح بھی پاکستانی ثقافت کےلیے موزوں نہیں ہیں، ان ڈراموں کو دیکھنے سے نوجوان نسل بے حیائی کے راستے پر چل رہی ہے اور معاشرے میں ایسی کئی نئی جہتوں کا وجود ہوا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے مجھے ان ڈراموں کا مشاہد کرنے کا موقع ملا تو میں نے ایسی کچھ چیزیں دیکھیں جو مجھے قابل اعتراض لگیں۔ اب میں چند اعتراضیہ نکات پیش کروں گا۔

بار بار ناجائز جنسی تعلقات کا ذکر

ہر ڈرامے میں ایک یا ایک سے زائد مرتبہ کسی آدمی یا عورت پر ناجائز جنسی تعلقات کا قصہ چھیڑا جاتا ہے۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ ایک آدمی جو ڈرامے کے شروع سےلے کر اختتام تک شریف النفس ظاہر کیا جاتا ہے پر اچانک کوئی عورت آ کر ماضی میں اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگا دیتی ہے۔بعد میں وہ الزام سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین جب اپنے کام کاج چھوڑ کر ایسے ڈرامے دیکھ رہی ہوتی ہیں تو ان کےچھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ڈرامہ دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ بار بار ناجائز تعلقات کا ذکر سن کے ان کے ناپختہ ذہنوں پر برا تاثر پڑتا ہے مگر بچے چونکہ اپنے والدین کو ہی سمجھ بوجھ والا سمجھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی وی پر جو کچھ ہو رہا ہے وہی معاشرے کی حقیقت ہے اور جس طرح یہ عورت ناجائز تعلقات رکھتی ہے اسی طرح ان کی ماں یا باپ بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ اور یہ کوئی بہت زیادہ معیوب بات نہیں۔

غیر متعلقہ بیک گراؤنڈ موسیقی

ڈراموں میں ایک تو غیر ضروری طور پر موسیقی بجائی جاتی ہے ۔ ہر بدلتی صورت حال کے لیے موسیقی کا بجنا شروع ہو جانا اوریہ موسیقی ہندوؤں کی عبادت گاہوں میں بجنے والی گھنٹیوں، مذہبی رسومات میں بجائے جانے والے سنکھ اور مختلف موقعوں پر پڑھے جانے والے منتروں کے پاٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یوں نہ چاہتے ہوے بھی مندر کی گھنٹی آپ کے گھر میں گونجتی ہے۔ منتروں کے پاٹ چلتے ہیں۔ اگر اسی چیز کو آپ اس انداز میں سوچیں کہ کسی ہندو کے گھر میں اذان کی آواز گونجنے لگے یا قرآن کی تلاوت سنائی دینے لگے تو اس کا طرز عمل کیا ہو گا ؟ موسیقی تو ویسے بھی اسلام میں پسند نہیں کی جاتی تو اگر آپ خود کو موسیقی سننے سے باز نہیں رکھ سکتے تو کم از کم ہندوؤں کی مذہبی موسیقی سے اپنے گھروں اور اپنی اولاد کے کانوں کو محفوظ رکھیں۔

مزید ہندوؤانہ رسومات

ان ڈراموں میں مکمل طور پر ہندوؤں کی مذہبی رسومات دکھائی جاتی ہیں ۔ شادی کے پھیروں سے لے کر لاش کو لکڑیوں پر جلانے تک۔ السلام علیکم کی جگہ نمستے اور جے شری کرشنا استعمال کرنے سے لے کر ماں باپ کے پیر چھونے تک۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر ہماری نئی نسل یہ سب دیکھتی رہی تو ایک دن ایسا نہ آئے جب آپکے بچے آپ سے سوال کرنے لگ جائیں کہ بابا جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو ہم اسے جلاتے کیوں نہیں۔ امی جان مجھے آشیرواد دیجیے۔ آپی مجھے راکھی کب باندھو گی اور بھیا اگلے جنم میں آپکا بڑا بھائی میں بنوں گا وغیرہ وغیرہ۔

اسلام میں لاش کو دفنانے پر تنقید

ہندوؤں کے اکثر ڈراموں اور فلموں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کسی انسان کے مر جانے کے بعد اگر اس کی لاش کو جلایا نہ جائے تو روح جسم سے الگ نہیں ہوتی، اور اپنی مقرر کردہ جگہ پر واپس نہیں جاتی بلکہ دفنا دینے کی صورت میں لاش کے ارد گرد ہی موجود رہتی ہے۔ ایسے حالات میں فلم یا ڈرامہ کی کہانی میں لاش کو دفن شدہ جگہ سے نکال کر جلایا جاتا ہے تا کہ بعدازاں وہی روح کسی اور کو تنگ نہ کرے۔ ایسا کر کے دراصل اسلام میں لاش کو دفنانے کے عمل کو غلط قرار دیا جاتا ہے۔ جو کہ اسلامی اصولوں پر صاف تنقید ہے۔ کیا آپ ایسے ڈرامے دیکھنا چاہیں گے جس میں آپ کے مذہبی طریقہ کار کو غلط قرار دیا جائے۔

کہانی کو غیر ضروری طور پر لمبا کرنا

اگر ہم مذہب کو پس پشت بھی ڈال دیں اور ڈرامے کو انٹرٹینمینٹ کی ایک قسم سمجھ لیں تب بھی ان ڈراموں میں ناظرین کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔ ان ڈراموں میں کہانی کو غیر ضروری طور پر لمبا کر دیا جاتا ہے ۔ اکثر اوقات ایک عمل کو دکھانے کے لیے دس اقساط گزار دی جاتی ہیں۔ جو کہ دیکھنے والے کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر ڈرامہ بنانے والے واقعی کوئی اچھی اور سبق آموز کہانی پیش کرنا چاہتے ہیں تو وہ فضول طورپر کہانی کو لمبا کر کے کم از کم ناظرین کا وقت ضائع نہ کریں۔ اکثر اوقات ڈرامے کا ایک کردار کسی بھی غلط عمل کا سارا ذمہ خود لے لیتا ہے اور کسی کو اس بارے میں آگاہ نہیں کرتا۔ بعد ازاں کرداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور اسی چخ چخ میں کئی اقساط گزر جاتی ہیں۔

خواتین کو غلط ترغیب دے کر گھریلو نظام تباہ کرنے کی کوشش

ان ڈراموں میں اکثر اوقات عورت کو مردوں سے برتر دکھایا جاتا ہے۔ عورت گھر کا مکمل انتظام سنبھالے ہوے ہے، کاروبار کی منتظم بھی وہی ہے۔ بڑے بڑے فیصلے بھی وہی کرتی ہے جب کہ گھر کے مرد، بڑے بوڑھے کرداروں کو خاموش رکھا جاتا ہے۔ یوں ایک طرف تو عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دی جا رہی ہے دوسرے اسے مرد سے زیادہ حقوق رکھنے کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ میرے خیال سے عورت مرد کے لیے ہے۔ ایک خاندان کی گاڑی چلانے کے لیے مرد اور عورت مکمل تعاون کریں تبھی سبھی امور اچھی طرح انجام پاتے ہیں۔ لیکن عورت گھر کی چار دیواری اور اولاد کے منتظم ہے اور مرد گھر کے باہر ی امور کا۔اگر عورت گھر کے باہر معاملات میں بڑے بڑے فیصلے صادر کرنے لگے تو خاندانی نظام کا توازن بگڑ جانے کا خدشہ ہے۔ اس لیے یہ ڈرامے ہماری نئی نسل کی بچیوں کے لیے بھی موزوں نہیں۔

ناقابل قبول لباس اور اڈلٹری کا فروغ

انڈین ڈراموں میں خواتین کا زیادہ استعمال ہونے والا لباس ساڑھی ہے۔ یہ ایک ایسا لباس ہے جس میں خواتین کا مکمل جسم ڈھکا نہیں رہ سکتا۔ مزید براں جب خواتین ایسا لباس پہن کر کسی کردار میں آتی ہیں تو ڈرامہ کے دیگر مرد کردار، کزن، دیور اور کلاس فیلو ان کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہیں۔ ان کی تعریف کرتے ہیں۔ خواتین کو اس طرح نیم عریانی کی کیفیت میں دیکھ کر ہمارے نوجوانوں بھی معاشرے میں خواتین کے ساتھ اسی قسم کا تعلق چاہتے ہیں اور انکے ذہن بے حیائی کی طرف جا رہے ہیں ۔
ان سبھی وجوہات کی بنا پر یہ ڈرامے ہمارے معاشرے ، ہماری ثقافت اور ہمارے مذہب کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ اگر ہم ان کی مزید پذیرائی کریں گے تو ہم اپنی ہی آنے والی نسلوں کا نقصان کریں گے۔

مصنف: یاسر عمران مرزا

اس سے ملتی جلتی تحاریر

ہندو مت چار ذاتیں اور ہم
پاکستانی میڈیا کا منفی کردار
ہندو معاشرہ
ہم پاکستانی کہاں جا رہے ہیں

Filed under: Features, Urdu Tagged: culture, Customs, hindu, Hindu Muslim, Hinduism, India, indian tv, Islam, negative media, Negative Role, Pakistan, pakistani tv channel, Politicians, reality shows, Society, Television, tv channels, فلم, ہندو, ہندومت, فحاشی, مندر کی گھنٹی, موسیقی, میڈیا, معاشرہ, نوجوان نسل, ناجائز تعلقات, ڈرامے, کلچر, ٹی وی, ٹی وی چینل, پاکستان, انڈین ڈراما, اڈلٹری, اردو, اسلام, بے حیائی, بھارتی ڈرامے, تہذیب و تمدن, ثقافت, جنسی تعلقات, ذات پات, رسم و رواج, سٹار پلس, شادی, عمومی بحث, عریانی, غیر موزوں لباس

Comments Off

یاسر عمران - پتھر کا انتظار

Dec
09

ایک متمول کاروباری شخص اپنی نئی جیگوار کار پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا کہ دائیں طرف سے ایک بڑا سا پتھر اُسکی کار کو آ ٹکرایا۔ اُس شخص نے کار روک کر ایک طرف کھڑی کی اور تیزی سے نیچے اُتر کر کار کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھنا چاہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ پتھر مارا کس نے تھا!!

پتھر لگنے والی سمت میں اُسکی نظر گلی کی نکڑ پر کھڑے ایک لڑکے پر پڑی جس کے چہرے پر خوف اور تشویش عیاں تھی۔آدمی بھاگ کر لڑکے کی طرف لپکا اور اُسکی گردن کو مضبوطی سے دبوچ کر دیوار پر لگاتے ہوئے پوچھا؛ اے جاہل لڑکے، تو نے میری کار کو پتھر کیوں مارا ہے؟ جانتے ہو تجھے اور تیرے باپ کو اِسکی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

لڑکے نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے اُس آدمی کو دیکھتے ہوئے بولا؛ جناب میں نے جو کُچھ کیا ہے اُسکا مجھے افسوس ہے۔ مگر میرے پاس اسکے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ میں کافی دیر سے یہاں پر کھڑا ہو کر گزرنے والے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر کوئی بھی رُک کر میری مدد کرنے کو تیار نہیں۔ لڑکے نے آدمی کو گلی کے وسط میں گرے پڑے ایک بچے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے بتایا؛ وہ میرا بھائی ہے جو فالج کی وجہ سے معذور اور چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ میں اِسے پہیوں والی کُرسی پر بِٹھا کر لا رہا تھا کہ سڑک پر پڑے ایک چھوٹے گڑھے میں پہیہ اٹکنے سے کُرسی کا توازن بگڑا ا ور وہ نیچے گر گیا۔ میں نے کوشش تو بہت کی ہے مگر اتنا چھوٹا ہوں کہ اُسے نہیں اُٹھا سکا۔ میں آپکی منت کرتا ہوں کہ اُسے اُٹھانے میں میری مدد کیجیئے ۔ میرے بھائی کو گرے ہوئے کافی دیر ہو گئی ہے اِسلئے اب تو مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے۔۔۔ اِس کے بعد آپ کار کو پتھر مارنے کے جُرم میں میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں گے میں حاضر ہونگا۔

آدمی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، فورا اُس معذور لڑکے کی طرف لپکا، اُسے اُٹھا کر کرسی پر بٹھایا، جیب میں سے اپنا رومال نکال کر لڑکے کا منہ صاف کیا، اور پھر اُسی رومال کو پھاڑ کر ، لڑکے کو گڑھے میں گر کر لگنے والوں چوٹوں پر پٹی کی۔ اسکے بعد لڑکے نے آدمی سے پوچھا؛ جی جناب، آپ اپنی کار کے نقصان کے بدلہ میں میرے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں؟

آدمی نے مختصر سا جواب دیا؛ کچھ بھی نہیں بیٹے، مجھے کار پر لگنے والی چوٹ کا کوئی افسوس نہیں ہے۔

آدمی اُدھر سے چلا تو گیا مگر کار کی مرمت کیلئے کسی ورکشاپ کی طرف نہیں، کار پر لگا ہوا نشان تو اُس نے اِس واقعہ کی یادگار کے طور پر ویسے ہی رہنے دیا تھا، اِس انتظار کے ساتھ کہ شاید کوئی اور مجبور انسان اُس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اُسے ایک پتھر ہی مار دے۔۔۔

*****

خدشات اور پریشانیوں کے اِس دور میں بسنے والے ہم لوگوں کے اپنے اپنے تحفظات اور اپنی اپنی لا متناہی خواہشات ہیں۔ راحت اور آسائشیں بڑھنے سے فرائض اور واجبات کے ساتھ ساتھ خدا بھی بھُولتا جا رہا ہے۔ صحت و تندرستی، مال و زر اور علم و مرتبہ سے بھرپور پُر مسرت اور پُر سکون زندگیاں تو اور بھی زیادہ شُکر کی مُستحق ہوا کرتی ہیں کہ ہم اِن نعمتوں اور مہربانیوں کے شکرگزار ہوں جو ہم پر برس رہی ہیں مگر غفلت نے ہم پر اور ہماری عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہوتا ہے۔

اور پھر کبھی کبھی ناگہانی بیماریاں، مصیبتیں اور پریشانیاں شاید ہماری توجہ نعمتوں کے شُکر کی ادائیگی کیلئے، ہمیں سیدھی راہ پر لوٹانے اور ہمیں نعمتوں کے فضل کا احساس دلانے کیلئے نازل ہو ا کرتی ہیں۔ اگر انسان ساری دنیا کی دولت و راحت کما لے مگر اپنے رب سے تعلق اور رابطہ کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ملے گا؟

ہم ہزاروں کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ گاڑی کی ضمانت مل جائے، گھر کی ضمانت دے دی جائے، گھر میں موجود ہر راحت و آسانی کی دستیابی کی ضمانت مِل جائے۔۔۔ مگر کیا دائمی زندگی کی بھی کوئی ضمانت ہے؟

کچھ اِس طرف بھی توجہ ہے ہماری؟

یا کسی پتھر کا انتظار ہے جو ہمیں آ کر لگے اورتب ہی ہم اپنی اِس غفلت سے جاگیں گے؟؟؟

ای میل سے اقتباس

اس سے ملتی جلتی تحاریر

شوہر برائے فروخت

سعودی عرب کے پاکستانی

ایک پردیسی کی کہانی

سازشوں کے جال

Filed under: Just-Shared, Urdu Tagged: معاشرہ, معزور, کہانی, آخرت, امرا, دنیا, غافل, غریب, غربا

Comments Off

یاسر عمران - نیا اسلامی سال مبارک اور نئے سال کا کیلنڈر

Dec
07

HAPPY NEW HIJRI YEAR

اللہ تعالی کے کرم سے آج سعودی عرب میں نئے ہجری سال کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور کل ان شا ء اللہ پاکستان میں بھی ہو جائے گا۔ دعا ہے کہ نئے سال میں اللہ تعالی تمام پاکستانیوں اور تمام مسلمانوں پر اپنا کرم فرمائے۔ اسلام کو عزت اور سربلندی عطا فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان پر اپنا خصوصی کرم فرماتے ہوے اسے نیک اور مخلص انتظامی سربراہان عطا فرمائے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ فرمائے اور تمام پاکستانیوں، تمام بلوچوں، تمام سندھیوں، تمام پنجابیوں اور تمام صوبہ خیبر پختونخواہ کے رہنے والوں کو مل جل کر اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تمام پاکستانیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور خلوص عطا فرمائے۔ اور مسلمانوں کو نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

میری طرف سے یہ ایک چھوٹا سا تحفہ۔ نئے اسلامی سال یعنی 1432 کا کیلنڈر قبول فرمائیں۔ یہ کیلنڈر کسی عرب ڈیزائنر کی کاوش ہے۔ امید ہے آپکو پسند آئے گا۔ آپ اسے پی ڈی ایف فارمیٹ یا جے پی جی فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

calendar-1432-hijri

کیلنڈر ڈائون لوڈ کرنے کے لیے تصویر پر کلک کریں

پی ڈی ایف ڈائون لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

http://yasirimran.files.wordpress.com/2010/12/1432.pdf

Filed under: Urdu Tagged: 1432, Happy new Hijri year, happy new year, hijri year 1432, moharam, Pakistan, ہیپی نیو ائر, ہجری سال, محرم, اسلامی سال, سال نو, سال کا آغاز

Comments Off

یاسر عمران - ہندو مت چار ذاتیں اور ہم

Dec
07

hinduism

جب سے آنکھ کھلی اور اس پاک دھرتی کے مدرسوں، سکولوں کالجوں میں وقت گزرا۔ ہمیشہ ایک موضوع کو ہم نے اسلامیات اور معاشرتی علوم میں متحرک پایا اور وہ موضوع ہے ہندومت کی چار ذاتوں کا یعنی برہمن، کھشتری ، ویش اور شودر۔

برہمن وہ تھے جن کے ذمے مذہبی امور تھے اور وہ انتہائی اعٰلی ذات سمجھے جاتے تھے ان کی عظمت عام انسانوں سے اس قدر زیادہ تھی کہ اگر ان کو وید پڑھتے ہوئے کوئی شودر یا ویش سن لیتا تو اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا۔دونوں بڑی ذاتوں کا دونوں نچلی ذاتوں پہ یہ حق تھا کہ جب بھی کسی کی چاہتے جان لے سکتے تھے۔

کھشتری کا کام ملک کا دفاعی کام سر انجام دینا تھا یعنی وہ طاقت کی علامت تھے۔

ویش کا کام کھیتی باڑی کرنا تھا یعنی ملکی زراعت سنمبھالتے تھے۔جبکہ شودر کا کام بس چھوٹے موٹے کام کرنا اور باقی تمام ذاتوں کا حکم بجا لانا تھا۔

یہ تو تھا ہندو معاشرہ جس میں بےشمار مسائل اور ظلم تھے لیکن جب میں نے اپنے معاشرے کو پڑھا تو میں حیران رہ گیا اور ایسے محسوس ہوا جیسے میرا بھی ایسے ہی کسی معاشرے سے تعلق ہے۔ آپ ضرور سوچ رہے ہونگے کہ یہ اسلامی جمہوریہ کے بارے میں ایسے کیسے کہہ سکتا ہے؟ آئیے میں اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تو میں نے جیسے عرض کی کہ پہلی ذات تھی برہمن، یہ تمام وڈیرے اور جاگیردار مجھے اس سانچے میں خوب ڈھلتے ہوئے محسوس ہوئے کیوں کہ ان کے اپنے بچے اور یہ خود یورپ اور امریکہ کی اعٰلی یونیورسٹیوں میں “اعٰلی” تعلیم کے حصول میں کامیاب رہتے ہیں لیکن اپنے علاقے میں پرائمری سکول تک نہیں کھلنے دیتے۔ تعلیم کی اہمیت جاننے کے باوجود یہ ملک میں ایک جیسا تعلیمی نصاب نہیں رائج نہیں کرنے دیتے اور اگر کوئی ان جیسی تعلیم حاصل کر کے ملک کے لیئے کام کرنے کی کوشش کرے تو اس کی قسمت کے کانوں میں “پگھلا ہوا سیسہ” ڈال دیتے ہیں۔

میں نے مزید غور کیا تو مجھے وہ تمام جعلی پیر،فقیر اور نام نہاد علماء بھی اسی کلاس میں شامل نظر آئے۔ قرآن کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو کہتا ہے آو مجھے تمھارے لئے بہت آسان کر دیا گیا ہے لیکن جب ایک مسلمان اس کو سمجھ کر ان تمام اداکاروں کے خلاف “کلمئہ حق” بلند کرے تو نتیجہ آپ کو میں بتا چکا۔

دوسری ذات تھی کھشتری، طاقت کی علامت ، شاید اسی لئے اس کے درودیوار، سڑکیں، بجلی، پانی، معیشت،تعلیم یعنی ہر لحاظ سے طاقتور۔اس کی طاقت کا اعتراف تو سولہ سالہ بچے نے لال مسجد کے ملبے تلے دبتے وقت بھی کیا۔ ان کی طاقت کا اعتراف تو دن کے اُجالے میں سر عام اُٹھائے جانے والے بیٹوں کی ماؤں نے بھی کیا۔اِس قوم کی اُس بیٹی کو سنائے گئے ناحق فیصلے نے بھی کیا۔ مُحسن پاکستان کی آنکھوں میں قید کے دوران پلکوں پہ آئے آنسو ؤں نے بھی کیا۔ یہ ہے پاک فوج جس کے لیےہم زندہ باد کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے۔

تیسری ذات میں آئے ویش، یہ “مڈل کلاس” کسان، محنت کش معصوم اور سادہ سی ذات جس کا کام گندم ، دالیں ، سبزیاں اور گنا اُگانا اور بالآخر بڑی ذاتوں کے ذخیرہ اندوذوں کے اُوپر لُٹا دینا بدلے میں ان ذخیرہ اندوزوں کا انھی لوگوں کو اپنی ذات کی طرح اعٰلی داموں بیچنا یعنی ان سے نوالا چھین لینا۔ اُن کا معاشی استحصال کرکے خودکشی پہ مجبور کردینا جیسے برہمن کا شودر کی جان لینے کو حق کہنا۔

چوتھی اور آخری ذات شودر، اس ذات کا کردار ہمارا مزدور طبقہ(کمی کمین پنجابی میں) نبھاتا ہے جو چھوٹے موٹے محنت بھرے کاموں میں مصروف رہتا ہے اور بلاشبہ جن کو ہمارے اسلامی جمہوریہ میں اچھوت سمجھا جاتا ہے اور انہیں ہر طرح سے محروم رکھا جاتا ہے۔ مجھے شرم سے کہنا پڑھے گا کہ ہمارے معاشرے میں عیسائی یا کوئی دوسرا بھی اسی ذات میں شامل کردیا گیا ہے۔ اور ان کی زندگی کا مقصد “اُونچی ذاتوں” کی خدمت بجا لانا ہے۔

برہمن وہاں بھی چند فیصد تھے، جاگیردار اور وڈیرے یہاں بھی چند فیصد ہیں ۔فوج جب اقتدار میں آئے جب چاہے کسی کو مارے قتل کرے ڈاکا ڈالے غائب کرے اس کا یہ حق ہے بالکل کھشتری ذات کی طرح۔

تم پاکستانی عوام آج بھی ویش اور شودر سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہو ان کے سامنے اور تم آج بھی ویش اور شودر کی طرح خوف سے آواز نہیں اُٹھاتی ہو۔ تُم لوگوں پہ تکلیف آئے تو رو لیتے ہو بچ جاؤ توتکلیف کا خوف کھاتے ہو ۔ لیکن آواز نہیں اُٹھاتے ہو۔ کبوتر جب شکاری کے جال میں پھنس گئے تو مل کے جال کو اُڑا لے گئے۔ آو تم بھی ان برہمنوں اور کھشتریوں کے بُنے ہوئے ظالمانہ جال کو لے اُڑو۔
آو متحد ہوجائو اور ان جاگیرداروں وڈیروں کو جیلوں میں ڈال دو یا ان کو ملک سے بھگا دو۔ آج بھی موقع ہے دل پہ ہاتھ رکھو اللہ اللہ کہو اور نکل پڑھو گھر سے اس ظلم کے خلاف۔ یاد رکھو آج اگر نہ متحد ہوئے تو یہ اس پوری قوم کو “ستی” کی آگ” میں جلا ڈالیں گے اور تمھاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

میرے دوست عظیم لطیف کے قلم سے۔

اس سے ملتی جلتی تحاریر

ہندو معاشرہ
نکاح کے ساتھ مذاق
بہترمعاشرہ قائم کرنے کے لیے پاکستانیوں کی ذمہ داریاں
ہم پاکستانی کہاں جا رہے ہیں

Filed under: Features, Urdu Tagged: culture, Customs, hindu, Hindu Muslim, Hinduism, India, Islam, Pakistan, ہندو, ہندومت, معاشرہ, چار ذاتیں, کھشتری, اردو, اسلام, برہمن, ذات پات, رسم و رواج, شودر, عمومی بحث

Comments Off

یاسر عمران - گوگل ایڈسینس کی بنیادی ٹرمز جانیے

Dec
05

گوگل ایڈسینس اکاوّنٹ حاصل کر لینے کے بعد آپ اپنے اکاوّنٹ میں لاگ ان ہو کر کئی اقسام کی رپورٹس اور جدول دیکھ پاتے ہیں۔ انہی رپورٹس اور شماریات کی بنا پر آپ اپنے اشتہارات اور صفحات میں بہتری لا سکتے ہیں چنانچہ آپکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان رپورٹس میں موجود ٹرمز Terms کا کیا مطلب ہے۔ نیچے میں چند بنیادی ٹرمز کی تفصیل اور مطلب بیان کرتا ہوں۔

کلک Click

ایک قابل قبول کلک وہ ہوتا ہے جو ایک حقیقی صارف آپکی ویب سائٹ پر آ کر کسی ایسے اشتہار پر کرتا ہے جو واقعی کسی ایسی ویب سائٹ یا ویب صفحے کا ہے جہاں اس صارف کے مطلب کی کوئی چیز موجود ہو۔اس کلک کے نتیجہ میں اشتہار دینے والا گوگل کو ایک طے شدہ رقم دیتا ہے۔ جس میں سے گوگل اپنی کمیشن کاٹ کربقیہ رقم آپکے کھاتے میں منتقل کر دیتا ہے۔

کرالر Crawler

کرالر کو عام طور پر سپائڈر یا بوٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک سافٹ وئر ہے جو مسلسل انٹرنیٹ پر موجود ویب صفحات کو پڑھتا رہتا ہے اور ان صفحات میں موجود ڈیٹا کو ان کے متعلقہ زمرہ جات میں محفوظ کرتا رہتا ہے۔ کرالر کسی بھی وقت آپ کے ویب صفحے پر آ کر آپکے صفحے پر موجود مواد کا جائزہ لیتا ہے اور پھر اسی طرز کے اشتہار آپ کے صفحے پر ظاہر کرتا ہے جس قسم کا مواد آپکے ویب صفحے پر موجود ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کھیلوں کے متعلق مضامین لکھتے ہیں تو آپکی ویب سائٹ یا بلاگ پر گوگل کی جانب سے کھیلوں کا سامان بنانے والے اداروں کے اشتہار ظاہر ہوں گے۔ یا مختلف سپورٹس کلب کے اشتہار ظاہر ہوں گے۔

ایڈ کوڈ Ad Code

ایک ایڈ یونٹ کے لیے جو ایچ ٹی ایم ایل کوڈ گوگل آپکو مہیا کرتا ہے تا کہ آپ اسے اپنے ویب صفحے کی ایچ ٹی ایم ایل میں شامل کر کے اشتہار کا ظاہر ہونا ممکن کرتے ہیں۔

ایڈ یونٹ Ad Unit

اشتہارات کا ایک مجموعہ جو تصاویر یا لکھائی کی شکل میں ایک مخصوص منتخب کیے گئے سائز میں کسی بھی ویب صفحے پر ظاہر ہو۔ اپنے ایڈ سینس اکاونٹ میں آپ اشتہارات کی نوعیت۔ رنگ، تحریری اشتہارات کی شکل وغیرہ اختیار کر سکتے ہیں۔ بعدازاں آپکو ایک جاوا سکرپٹ اور ایچ ٹی ایم ایل پر مشتمل کوڈ دیا جاتا ہے جسے آپ اپنے ویب صفحے میں لگا سکتے ہیں۔

ٹیکسٹ ایڈز یا امیج ایڈز Dynamic image ads or Text Ads

گوگل ایڈسینس کے اشتہارات کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ٹیکسٹ پر مبنی اشتہارات جن میں صرف عبارت ہوتی ہے اور تصویری اشتہارات جن میں اشتہار دینے والا اپنا پیغام ایک تصویر کی صورت میں پیش کرتا ہے

ایڈ رینک اور پوزیشنگ Ad rank/Positioning

کسی بھی اشتہار کا اچھے ویب صفحات اور ان صفحات پر واضح مقامات پر ظاہر ہونا ان کی کاسٹ پرکلک کی قیمت کے حوالے سے متعین کیا جاتا ہے۔

چینل Channel

جو لوگ گوگل ایڈسینس کا اکاونٹ حاصل کر لیتے ہیں انہیں پبلشر کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ گوگل اشتہارات اپنے ویب صفحات پر پبلش کرتا ہے۔ کوئی بھی پبلشر اپنی مختلف ویب صفحات یا ویب سائٹس سے ہونے والے کلکس کی تعداد معلوم کرنے کے لیے چینل بنا سکتا ہے۔ یوں وہ معلوم کر سکتا ہے کہ کونسی ویب سائٹ پر اسے زیادہ صارفین مل رہے ہیں اور کتنی آمدن ہو رہی ہے۔ یوں کم آمدن ہونے والی ویب سائٹس یا ویب صفحات پر محنت کر کے انہیں بہتر بنا سکتا ہے۔

سی پی سی (Cost-per-click (CPC

کاسٹ پر کلک وہ رقم ہے جو آپکی ویب سائٹ پر لگے گئے اشتہار پر ایک کلک ہونے کے بعد گوگل ایڈ سینس کی طرف سے بطور کمیشن آپکو دی جاتی ہے۔ کیوں کہ ایسا ہونے کے بعد آپ کے توسط سے ایک انٹرنیٹ صارف گوگل کے ان صارفین تک جاتا ہے جنہوں نے گوگل ایڈورڈز کو صارفین بھیجنے کے لیے پیسے جمع کرا رکھے ہوتے ہیں۔ کسی بھی اشتہار کی کاسٹ پر کلک اشتہار دینے والا متعین کرتا ہے۔ قیمت کے کم یا زیادہ ہونے کی بنیاد پر گوگل ان اشتہارات کے لیے اچھے ویب صفحات یا عام درجے کے ویب صفحات پر ظاہر ہونا متعین کرتا ہے۔ تاہم یہ بحث گوگل ایڈورڈز کے متعلقہ ہے جو کہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

امپریشنز Impressions

اپنی ویب سائٹ پر گوگل ایڈسینس کا کوڈ لگا دینے کے بعد جتنی تعداد میں انٹرنیٹ صارفین آپ کا صفحہ کھولیں گے اور گوگل کے اشتہار مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے وہ تعداد اشتہارات کے امپریشنز Impressions کہلاتی ہے۔ اگر آپ نے ایک ویب پیج میں کئی اشتہارات لگا رکھے تو یہ تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر اگرآپکی ویب سائٹ کے ایک صفحے پر دو عدد ایڈ یونٹ Ad Unitsلگے ہیں اور آپکا صفحے پانچ بار کھولا جاتا ہے تو امپریشنز کی تعداد پانچ ضرب دو = دس ہو جائے گی۔

پیج سی ٹی آر PageCTR

سی ٹی آر دراصل کلک تھرو ریٹ کا مخفف ہے ۔آپکی ویب سائٹ پر ایک سو بار اشتہار نظر آنے پر آپکی ویب سائٹ کے صارفین کتنی دفعہ ان اشتہارات پر کلک کرتے ہیں۔ مثال کے طور آپکی ویب سائٹ پر 500 بار اشتہار ظاہر ہونے پر صارفین ان پر 25 مرتبہ کلک کرتے ہیں تو سی ٹی آر 25 کو 500 پر تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والی مقدار ہو گی۔ یعنی پانچ فیصد۔

ای سی پی ایم Page eCPM

ای سی پی ایم دراصل ایفیکٹو کاسٹ پر تھائوزینڈ امپریشنز کا مخفف ہے۔یعنی آپکی ویب سائٹ پر ایک ہزاربار اشتہار کے ظاہر ہونے پر آپکو کتنی آمدن ہو گی۔یہ مقدار ہم کمائی کو امپریشنز پر تقسیم کر کے حاصل کرتے ہیں۔ اس مقدار کو ہم مختلف ایڈسینس چینلز اور ایڈورٹائزنگ پروگرامز کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس سے ملتی جلتی تحاریر

گوگل ایڈسینس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ
ویب سائٹ یا بلاگ سے آمدنی
سرچ انجن آپٹیمائزیشن پر اردو میں ایک کتاب

Filed under: Edu, Urdu Tagged: AdSense, Advertising, AdWords, blog, Blogging, Google, google search, Pakistan, Pakistani, Pay per click, Pay-Per-Click Advertising, Promotion, PRWEB, Search Engine, Search Engine Optimization, Urdu, Urdu Blog, Urdu book, گوگل, گوگل ایڈسینس, پاکستانی بلاگ, پاکستانی بلاگر, Web Design and Development, Yahoo Publisher Network, آن لائن کمائیے, انٹرنیٹ پر کمائی, ایڈ سینس, ایڈسینس, اردو, اردو بلاگنگ, اشتہارات, سرچ انجن

Comments Off

یاسر عمران - فرنگ سافٹ وئر سے دنیا بھر میں سستی کال کیجیے

Nov
24

Fring ایک ایسا سافٹ وئر ہے جو کمپیوٹر سے کمپیوٹر وائس چیٹنگ کی طرز پر موبائل سے موبائل وائس چیٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ جی ہاں یہ وہی وائس چیٹنگ ہے جو ایک کمپیوٹر سے دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود کمپیوٹر پر یاہو، ایم ایس ان ، جی میل یا سکائپ سے کی جا سکتی ہے۔ لیکن Fring وہ پہلا موبائل سافٹ وئر ہے جس کی مدد سے وائس چیٹ ٹیکنالوجی آپ موبائل فون میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس وائس چیٹنگ کو دوسرے لفظوں میں فری کال کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔آپ اس طریقہ سے ساری دنیا میں کالز کرسکتے ہیں۔ اس کے پیچھے جو نظریہ یا تھیوری ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ آپ فرنگ کی مدد سے 3 جی نیٹ ورک پر ڈاٹا پلان یا وائی فائی استعمال کرتے ہوے لاگن ہوں۔ اور کسی بھی دوسرے سبسکرائبر سے ، جس کے پاس یہی سیٹ اپ ہو وائس کال کر کے بات کر سکیں ۔ اس طرح سے کی جانے والی کال سے فی منٹ‌ چارجز نہیں‌آتے بلکہ آپ کا انٹرنیٹ ڈاٹا پیکج استعمال ہوتا ہے۔

اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا موبائیل فون WiFi سے کنکٹ ہوسکتا ہو یا پھر 3 جی نیٹ ورک یا ایج نیٹورک سے کنکٹ ہوسکتا ہو۔ اگر آپکا موبائل یا نیٹ ورک آپریٹر 3جی سپورٹ نہیں کرتا تو آپ جی پی آر ایس سے بھی کنکٹ ہو کر وائس کال کر سکتے ہیں ۔ تاہم ایسی صورت میں آواز کی کوالٹی اتنی عمدہ نہیں ہوتی۔ وائس کال کے علاوہ فرنگ سے لکھائی کر کے چیٹ بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل میں نیچے مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

فرنگ ڈاؤن لوڈ کریں

فرنگ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اپنے موبائل کے ویب براؤزر میں یہ ویب ایڈریس ٹائپ کیجیے۔ آپ چاہے WiFi سے منسلک ہوں‌یا 3 جی ڈاٹا پلان سے، اسے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
www.fring.com
ڈاؤن لوڈ کا ربط آپ کو ہوم پیج پر ہی مل جائے گا۔ ایک خود کار طریقے فرنگ کی ویب سائٹ آپ کے موبائل کا موڈیل اور برانڈ معلوم کر لے گا۔ اور اگر آپکا موبائل سیٹ فرنگ کے لیے موزوں نہیں تو آپکو ایک پیغام دے دیا جائے گا کہ انسٹالیشن ممکن نہیں۔ دوسری صورت میں فرنگ تھوڑی ہی دیر میں ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا۔ اسکا سائز نوکیا Symbian OS کے لیے لگ بھگ ڈیڑھ میگا بائیٹ ہے۔ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد فرنگ انسٹال ہونا شروع ہو جائے گا۔ جس کے لیے چندبار آپکو مرکزی بٹن دبانا ہو گا۔ اگر آپ کے نوکیاموبائل میں OVI Store موجود ہو تو فرنگ وہاں‌بھی دستیاب ہے۔ وہاں سے بھی باآسانی ڈاؤن لوڈ کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے۔

اپنے موجودہ میسنجر اکاؤنٹ شامل کیجیے۔

فرنگ انسٹال ہونے کے بعد آپ کے لیے ایک نیا یوزر نیم بنائے گا۔ جس کے لیے آپکا پسندیدہ یوزر نیم، موبائل نمبر ، ای میل اور فرنگ یوزر نیم کےلیے پاس ورڈ طلب کرے گا۔ پاس ورڈ آپ کوئی سا بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ تاہم ای میل اور موبائل نمبر اپنا ہی استعمال کریں۔ اس مرحلے کے بعد آپ اپنے موجود میسنجر اکاؤنٹ کو فرنگ کے اندر محفوط کر سکتے ہیں۔فی الوقت فرنگ مندرجہ ذیل خدمات محفوظ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
MSN, Yahoo, Google, AIM, Twitter, and SIP
ان میں‌سے کوئی بھی اکاؤنٹ شامل کرنے کے لیے فرنگ کے آپشنز منتخب کریں، وہاں سے Goto->Add-ons میں‌جائیں۔ اب آپکے سامنے سبھی سروسز کے آئیکون آ جائیں گے۔اگر آپکو درست طریقہ معلوم نہ ہو سکے تو آپ کو فرنگ ڈاٹ کام سے اپنے فون کی یوزرز گائیڈ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی ، جو آ پ کو یہ بتاتی ہے کہ آپ فرنگ کی سیٹنگز میں‌جانے کے لئے کونسے بٹن دبائیں گے۔ وائس چیٹ کرنے کے لیے گوگل ٹالک بہترین نتیجہ دیتا ہے۔ یہاں‌اپنا گوگل ٹالک یوزر نیم اور پاسورڈ ڈالیں اور محفوظ کر دیں۔ اب دوبارہ مرکزی سکرین پر آئیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فرنگ آپ کے گوگل ٹالک میں شامل سبھی دوستوں کی فہرست دکھانے لگے گا۔ جو لوگ آن لائن ہوں گے وہ سبز رنگ میں نظر آئیں گے۔اب آپ کال کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ٹیسٹ کال کیجئے

آپ کو فرنگ میں ٹیسٹ کال کرنے کے لیے ایک لنک نظر آئے گا۔ اس کو سلیکٹ کرنے پر کال کا آپشن نظر آئے گا۔ آپ ایک آٹو میٹک ٹیسٹ‌کا ل کرسکیں گے۔ اس میں‌آپ اپنی آواز ریکارڈ کروا کر دوبارا سننے کی صورت میں ٹیسٹ‌ مکمل ہوجائے گا تو آپ کسی کو بھی کال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ اپنے فون کے ڈاٹا پلان سے جتنی چاہیں کال کرسکتےہیں۔ فرنگ ویب سائٹ کے مطابق ایک گھنٹہ وائس کال کرنے کے لیے 8 میگا بائیٹ ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔میں نے فرنگ کو ان موبائل سیٹس پر آزمایا ہے اور یہ درست طریقے سے کام کرتا ہے۔

  • Nokia 6220، 6120، E65, E66, E71, E63, E51, N70, N73, N95, N85
  • HTC Diamond2, HTC Diamond, HTC Pro, HTC TyTN II, HTC HD , HTC HD2
  • iPhone 3GS, iPhone 3G, iPhone 4

اس کے علاوہ بے شمار ایسے سیٹس جن پر فرنگ صحیح کام کرتا ہے فرنگ کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔
کسی بھی موبائل فون سروس آپریٹر کا فلیٹ تھری جی استعمال کرنے کی بجائے اگر آپ ڈیٹا بنڈل استعمال کر لیں تو کافی بچت ہو سکتی ہے۔جیسے یو فون کا 30 میگا بائٹ کا ڈیٹا بنڈل تقریبا 200 روپے میں پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے بنڈل بھی موجود ہیں جو آپ یو فون کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔سعودی عرب میں 30 ، 120، 500 اور 1000 میگا بائٹ کے ڈیٹا بنڈل بھی دستیاب ہیں اور یہاں کے تقریبا سبھی نیٹ ورک آپریٹر۔ الجوال، موبائلی اور زین پر اسے استعمال کر چکا ہوں۔ ڈاٹا پیکج کی مزید تفصیلی معلومات کے لیے آپ اپنے سروس پرووائیڈر کی ویب سائٹ یا کسٹمر سروس سے حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں وارد، یو فون اور زونگ استعمال کیا ہے۔ زونگ کا 2 جی بی ڈیٹا پیکج لے لیں جو ایک ماہ تک کارآمد ہے۔ اگر پورا مہینہ روزانہ ایک گھنٹہ وائس کال کریں تو قریبا 250 سے 350 میگابائیٹ ڈیٹا استعمال ہوتا ہے جو کہ 2 جی بھی کا بیس فیصد بھی نہیں ۔ میں نے فرنگ کو جی پی آر یس، ایج اور تھری جی سارے نیٹ ورکس سے فرنگ چلایا جا سکتا ہے۔وائی فائی کی تو بات ہی الگ ہے۔ فرنگ کے علاوہ ایک اور سافٹ وئر جس کا نام Nimbuzz ہے وہ بھی اس طرح کی تمام خدمات مہیا کرتا ہے۔ اور اب تو سکائپ کا موبائل سافٹ وئر ورژن بھی دستیاب ہے۔

جو لوگ گلف میں رہتے ہیں اور ٹیلی فون کالز پر بے ہنگم پیسے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے وطن بات کرنے کا ایک سستا ذریعہ فرنگ کی صورت میں میسر ہو سکتا ہے۔
کچھ مفید معلومات دینے کے لیے پاک نیٹ فورمز کے ممبر فاروق سرور خان کا شکر گزار ہوں۔

Filed under: Technology, Urdu Tagged: Cheap calls in Pakistan, Fring, Google Talk, low calling rate Pakistan, mobile voice chat, Nimbuzz, Pakistan lower call rate, Skype, فرنگ, وائس اوور آئی پی, پاکستان, پاکستان سستی کال, voice chat from mobile, voice chatting, voice over ip, Voip, انٹرنیٹ ٹیلیفون, انٹرنیٹ سے کال, بذریعہ انٹرنیٹ کالنگ, سکائپ, سستی ٹیلیفون کال

Comments Off

یاسر عمران - ویب سائٹ یا بلاگ سے آمدنی

Nov
23

ویب سائٹ عموماً چند مقاصد کے حصول کے لیے بنائی جاتی ہے مثلاً

انٹرنیٹ پر اپنی موجودگی کا اعلان کرنا اور احساس دلانا
معلومات اور خبروں کا تبادلہ کرنا
ویب سائٹ بطور مصنوعات کی تشہیر
روپے کمانے کے لیے

ان میں سے موخر الذکر کو ہم دوبارہ سے مزید مفصل کریں تو کمانے کا ذریعہ کچھ یوں ہو سکتے ہیں۔

اپنی ویب سائٹ پر مخصوص مد ت کے لیے دوسری کمپنیوں اور ویب سائٹس کے اشتہارات لگانا اور ان اشتہارات کے عوض روپے وصول کرنا۔
- گُوگل ایڈ سنس یا اس سے ملتی جلتی کسی اور انٹرنیٹ سروس کو اپنی ویب سائٹ ایک مخصوص حصہ دینا تا کہ وہ اس پر اپنے گاہکوں کے اشتہار چلائیں اور ان سے حاصل ہونے والی کمیشن میں آپکو حصہ دیں۔

ایک عام خیال یہ ہے کہ آپکی ویب سائٹ پر جتنے زیادہ انٹرنیٹ صارفین یعنی ٹریفک آتا ہے اتنے ہی زیادہ پیسے آپ کما سکتے ہیں۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے آئیے دیکھتے ہیں۔
زیادہ ٹریفک آنے سے آمدنی صرف اسی صورت میں بڑھ سکتی ہے جب ویب سائٹ پر گوگل ایڈسینس یا کسی اور ایسی سروس کے اشتہارات لگے ہوں۔ زیادہ ٹریفک آنے سے فائدہ یہ ہو گا کہ آپکی ویب سائٹ پر لگے اشتہارات پر صارفین کے کلک کرنے کی تعداد بڑھ جائے گی۔ گوگل ایڈسینس کے مختلف ایکسپرٹس کے مطابق اشتہارات پر کلک ہونے کی اوسط معیاری شرح ایک سو وزٹس میں سے ایک یا ڈیڑھ ہوتی ہے اور ایک کلک پر گوگل اوسطا پانچ سینٹ سے پندرہ سینٹ دیتا ہے۔ جو کہ چار پاکستانی روپوں سے لے کر تیرہ روپے تک بنتے ہیں۔ یوں ماہانہ ایک ہزار روپے کمانے کے لیے آپکو صارفین کے سو سے دو سو پچاس کلک درکار ہوتے ہیں۔ اور اتنی مقدار میں کلک پانے کے لیے آپ کو اپنی ویب سائٹ پر ایک لاکھ سے دیڑھ لاکھ وزٹس ماہانہ کو ممکن بنانا ہو گا۔ یہ وزٹس اگر یونیک وزٹرز کی جانب سے ہوں تو اور اچھی بات ہے۔ تاہم اگر پچیس سے تیس ہزار مخصوص صارفین بار بار آپ کی سائٹ پر آتے رہیں اور مختلف صفحات پڑھنے کے بعد کلک بھی کرتے رہیں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔


ان وزٹرز کو بار بار اپنی ویب سائٹ پر لانے کے لیے آپکو اپنی ویب سائٹ کو معیاری اور دلچسپ بنانا ہو گا اور اپنے صارفین کی پسند کو جان کر ان کو اپنی سائٹ پر رکنے پر مجبور کرنا ہو گا۔ ویب سائٹ کو دلچسپ بنانے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے اور فی الحال میں اسے زیادہ نہیں چھیڑوں گا۔تاہم اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر پیسے کمانے کے لیے کس قدر محنت درکار ہے۔
یہ طریقہ کار جو میں نے اوپر بیان کیا روزی کمانے کے لیے مکمل طور پرحلال ہے۔ اس میں اغلاط وہاں شامل ہوتی ہیں جب آپ گاہے بگاہے خود اپنی ویب سائٹ کے اشتہارات پر کلک کرنا شروع کر دیں اور مزید اپنے دوستوں اور گھر والوں کو ترغیب دیں کہ وہ بلاضرورت آپکی ویب سائٹ کے اشتہارات پر کلک کریں۔ ایسا کرنا گوگل ایڈسینس اور گوگل ایڈسینس کے گاہک، دونوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔اور اس طرح کی کمائی بالکل غیر اخلاقی اور حرام کمائی ہو گی، اس سے بچیے۔ اسی طرح اگر آپ کی ویب سائٹ پرپیش ہونے والے اشتہارات حرام اشیا جیسے شراب ، سودی قرضوں ، غیر اخلاقی ویب سائٹس ، غیر اخلاقی میگزین و رسائل اور لڑکے لڑکوں کی دوستی کے متعلق ہوں تو وہ بھی اسلامی لحاظ سے غلط ہو گا۔ ایسے اشتہارات کو باآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ جب آپ گوگل ایڈسینس کا اکاؤنٹ کھولتے ہیں تو آپ کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں کہ ویب سائٹ پر اشتہار کہاں کہاں ظاہر ہوں، کس طرز کے اشتہار ہوں، کن کمپنیوں اور ویب سائٹس کے اشہار نہ ہوں۔آپ اپنی مرضی کی نوعیت کے اشتہارات کی اجازت دے سکتے ہیں اور کسی خاص نوعیت کے اشتہارات دکھانے پر پابندی بھی لگا سکتے ہیں۔
دوسری بات۔ یہ تمام نقاط اوسط کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے انٹرنیٹ پر کچھ لوگ اس سے کم و بیش اعداد وشمار کے ساتھ اس سے بھی زیادہ پیسہ کما رہے ہوں۔ فرق پڑنے والے عوامل، ویب سائٹ کی خوبصورت شکل، اشتہارات کے مناسب مقامات پر لگا ہونا۔ ویب سائٹ کا سرچ انجن کے ساتھ دوستانہ ہونا وغیرہ ہیں۔اکثر پاکستانی دوست یہ شکایت کرتے ہیں کہ پاکستانی ویب سائٹس سے اتنی خاطر خواہ آمدن نہیں ہوتی. اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم گوگل ایڈسینس کو سیریس نہیں‌لیتے۔ ہم اسے کمائی کا ایک سیریس طریقہ نہیں سمجھتے بلکہ ہم اسے اپنی ملازمت ، اپنے کاروبار اور اپنی تعلیم کے ساتھ ایک سائیڈ بزنس سمجھتے ہیں۔
فرض کیجیے اگر ہم نے کپڑے کی ایک دکان کا کاروبار کرنا ہو تو ہم اس کے لیے کرائے پر دکان لینے کے لیے اسکی سیکورٹی کی مد میں پانچ سے دس لاکھ روپے ادا کرتے ہیں، پھر اسی دکان کا ماہانہ بیس ہزار کرایہ ادا کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی اس میں بیس ، پچیس لاکھ کا سامان بھی لا کر ڈالتے ہیں تب دکان چلنی شروع ہوتی ہے۔ شروع میں اچھا منافع نہیں ہوتا لیکن آہستہ آہستہ گاہکوں کی تعداد بڑھتی ہے۔ ہم گاہکوں کی پسند کا مال دکان پر رکھنا شروع کرتے ہیں اور گاہکوں کی نفسیات سمجھ کر انہیں ڈیل کرتے ہیں۔
لیکن جب گوگل ایڈسینس کی باری آتی ہے تو اکثر لوگ اپنی ذاتی ڈومین کے لیے سالانہ دو ہزار سے تین ہزار روپےبھی نہیں‌لگانا چاہتے۔ معیاری مواد تیار کرنے کے لیے دن میں چھے سے آٹھ گھنٹے بھی اپنی ویب سائٹ کو نہیں دیتے ۔ جب کہ سبھی جانتے ہیں‌جو بھی کاروبار شروع کیا جائے اس میں شروع میں شدید محنت کرنی پڑتی ہے تا کہ وہ جم جائے۔ ہم چاہتے ہیں‌ہم بلاگر کی ڈومین پر مواد کاپی پیسٹ کریں، گوگل ایڈسینس اکاونٹ بنائیں، اشتہار لگائیں اور فٹا فٹ آمدنی شروع ہو جائے۔
جی نہیں۔ گوگل ایڈسینس کے لیے یہ طریقہ موزوں‌ نہیں۔ جب تک ہم گوگل ایڈسینس میں اپنے وقت اور پیسے کی انویسٹمینٹ نہیں‌کریں گے یہ کاروبار ہمیں منافع نہیں دے گا۔ زیادہ سے زیادہ ‌یہی ہو گا کہ روزانہ کے ایک سو سے دو سے کے قریب انٹرنیٹ صارفین ملیں گے، جو بیس سے پچیس کلک کریں گے اور ان کلکس کی کمیشن کی مد میں روزانہ دو سے تین ڈالر گوگل ہمارے کھاتے میں منتقل کر دے گا۔

کچھ معلوماتی مواد مہیا کرنے کے لیے اپنے دوست بدرالزمان کا مشکور ہوں۔

اس سے ملتی جلتی مزید تحاریر

سرچ انجن آپٹیمائزیشن پر اردو میں ایک کتاب

گوگل ایڈسینس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ

گوگل پیج رینک Google Page Rank

Filed under: Edu, Urdu Tagged: AdSense, blog, Blogging, Google, google search, Pakistan, Search Engine Optimization, Urdu, Urdu Blog, Urdu book, یاھو پبلشر, گوگل, پاکستانی بلاگ, پاکستانی بلاگر, Yahoo Publisher Network, آن لائن کمائیے, انٹرنیٹ پر کمائی, ایڈ سینس, ایڈسینس, ایس ای او اردو, اردو, اردو کتاب, اردو بلاگنگ, اشتہارات, بلاگستان, سرچ انجن, سرچ انجن آپٹیمائزیشن

Comments Off

Switch to our mobile site