بلاگ ‘خاموش آواز’ کی تمام تحاریر

انکل ٹام - جوگ

May
01

مردہ لوگ، مرگ کا شوق

پابند زندگی ،آرزوئے موت

Comments Off

انکل ٹام - بابا سنگھاڑا

Apr
30

میں جب بھی باہر جاتا ہوں وہاں کہ واش روموں اور لیٹرینوں کو ضرور دیکھتا ہوں ، کیونکہ کسی بھی قوم کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے واش روم اور لیٹرینوں سے بڑھ کر کوئی جگہ میسر نہیں ، جب بھی میرے اندر کا ماہر نفسیات جاگتا ہے میں اپنے ائیر کنڈشنڈ آفس سے نکل کر نزدیکی چوک میں پبلک واش روم جا گھستا ہوں ، پبلک واش روم عوام کی سوچ کا نمائندہ ہوتے ہیں ، یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے اندر کتنی صفائی اور باہر کتنا گند ہے ۔ لیٹرینوں میں لکھے ہوئے گندے گندے لطیفے پڑھ کر آپ ایسے دانت پھاڑ کر ہنس سکتے ہیں جیسے آپ منا بھائی دیکھ کر بھی نہیں ہنسیں گے ۔ مجھے اکثر پبلک واش روم جانے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے کافی بچیوں کے نمبر مل جاتے ہیں ، اکثر لوگ اپنی دھوکہ دینے والی گرل فرینڈز سے بدلہ لینے کے لیے انکے نمبر پبلک واش رومز میں لکھ آتے ہیں ۔ میں وہاں سے حاصل کردہ نمبروں سے کئی دفعہ کامیاب ڈیٹیں لگا چکا ہوں ۔

پچھلے دنوں جب مجھے حیات ملک صاحب کی طرف سے لفافہ وصول ہوا تو میں نے اپنے دفتر کے باہر ریڑھی لگانے والے کالو کینچی کی ریڑھی سے چکڑ چھولے کھا لیے ، جسکی وجہ سے غیر معوملی طور پر مجھے موشن لگ گئے اور میرا آدھا دن چوک والے پبلک واش روم میں گزر گیا ، وہاں میری ملاقات بابا سنگھاڑے سے ہوئی ۔ بابا سنگھاڑا ڈھلتی عمر کا خوبصورت رکھوالہ ہے ، اسکا کام پبلک واش روم کی صفائی ستھرائی اور اسکی دیکھ بھال ہے ۔بابا سنگھاڑے کا خاندان انڈیا کے تامل ناڈو سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا ، بابا اپنے خاندان کا پہلا سنگھاڑا تھا ، ویسے تو بابے سنگھاڑے میں بے شمار خوبیاں تھیں ، لیکن جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ لیٹرینوں میں بچیوں کے نمبروں کی لسٹ تھی ، بابے کے پاس لسٹ میری لسٹ سے کئی گنا بڑی تھی ۔ بابے کا کہنا تھا کہ وہ ہر سال تین مہینے ہَگلینڈ کے شہر پھندن مین خرکار بھائی کے ساتھ گزارتا ہے ۔

Comments Off

انکل ٹام - سلام مائی

Apr
07

ثانیہ نے اس دن میرے ساتھ بڑے زور دار طریقے سے لڑائی کی تھی ، بس میں نے امی سے بات کرنے کے بعد فون بند کیا تو اسنے اپنی پلیٹ سے چمچ رکھ کر میری طرف غصے والی نظروں سے دیکھا اور یوں گویا ہوئی ، ” تم مجحے جیلسی کا احساس دینا چاہتے ہو ؟ “۔ ویسے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی غصے میں ہو اور میری ہنسی نکل جائے لیکن میں ایسی حرکتوں میں بڑا بدنام ہوں ، سکول کے بہت سے لوگ اب بھی مجحے پاگل سمجھتے ہیں کیونکہ میرے دانت اندر نہیں جاتے تھے کبھی اور ہر لڑکی میری ہنسی دیکھ کر خود کو حور پری ضرور سمجھتی ہو گی ، اور وہ مولانا صاحب والا قصہ تو الگ ہے جب انہوں نے میری اسی ان کنٹرولڈ ہنسی کے باعث مجلس سے بڑی عزت سے بے دخل کر دیا تھا اور سب سے مست وہ کہانی تھی جب میرا برا رزلٹ دیکھ کر ابو میری کلاس کر رہے تھےتو میں اچانک میری ان کنٹرولڈ ہنسی شروع ہو گئی امی نے تو بہت غصے والی نظروں سے اشارے کیے تھے لیکن اتنا ہنسا کہ آخر ابو بھی ہنسنے لگے تھے ۔

Comments Off

انکل ٹام - سلام مائی

Apr
07

ثانیہ نے اس دن میرے ساتھ بڑے زور دار طریقے سے لڑائی کی تھی ، بس میں نے امی سے بات کرنے کے بعد فون بند کیا تو اسنے اپنی پلیٹ سے چمچ رکھ کر میری طرف غصے والی نظروں سے دیکھا اور یوں گویا ہوئی ، ” تم مجحے جیلسی کا احساس دینا چاہتے ہو ؟ “۔ ویسے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی غصے میں ہو اور میری ہنسی نکل جائے لیکن میں ایسی حرکتوں میں بڑا بدنام ہوں ، سکول کے بہت سے لوگ اب بھی مجحے پاگل سمجھتے ہیں کیونکہ میرے دانت اندر نہیں جاتے تھے کبھی اور ہر لڑکی میری ہنسی دیکھ کر خود کو حور پری ضرور سمجھتی ہو گی ، اور وہ مولانا صاحب والا قصہ تو الگ ہے جب انہوں نے میری اسی ان کنٹرولڈ ہنسی کے باعث مجلس سے بڑی عزت سے بے دخل کر دیا تھا اور سب سے مست وہ کہانی تھی جب میرا برا رزلٹ دیکھ کر ابو میری کلاس کر رہے تھےتو میں اچانک میری ان کنٹرولڈ ہنسی شروع ہو گئی امی نے تو بہت غصے والی نظروں سے اشارے کیے تھے لیکن اتنا ہنسا کہ آخر ابو بھی ہنسنے لگے تھے ۔

Comments Off

انکل ٹام - طوفان

Apr
05

سمندر کی لہروں نے رات کے سناٹے میں بہت شور کیا لیکن انکو سننے والا تو کوئی تھا ہی نہیں ، کیونکہ قصبے میں آنے والے زلزلے نے سب کو طوفان کے خوف سے سمندر کنارے سے بہت دور جانے پر مجبور کر دیا تھا ۔ علاقے والوں نے اپنے مچھیروں کی واپسی کا بھی انتظار نہ کیا اور بوڑھی مائیں اپنے جوان بچوں کو سمندر کی طوفانی موجوں سے لڑنے کے لیے اللہ کے حوالے چھوڑ گئیں۔ ویسے تو اس  قصبے میں ایک ہی پارک تھا جس میں ہر وقت بچے ہی جھولا جھولتے تھے ، لیکن آج ٹھنڈی ہواوں میں وہ جھولا خالی ہی جھولتا رہا ، یوں تو ایک ماں اپنے بچے کو پینگ جھولتے دیکھتی تھی ، لیکن آج اس اوپر نیچے جاتی خالی پینگ کو دیکھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ میں کھلی آنکھوں سے مہیب اندھیرے میں بیٹھا سب دیکھتا رہا اور اتنے طوفانی شور کے باوجود میرا ماحول تنہائی کی خاموشی مین ڈوب گیا۔ لوگ آج بھی پوچھتے ہیں کہ اس طوفان سے مین زندہ بچ کر کیسے نکلا جس نے گاون کے گاون اجاڑ دئیے تھے ،لیکن لوگوں کی سوچ اور نظر تو سطحی سی ہی تھی ، ہمارے گاون کا استاد کہا کرتا تھا کہ جیسے بہت دور کچھ ہو تو نظر نہیں آتا ویسے ہی کوئی چیز بلکل آنکھو کے سامنے کر دو تو نظر نہیں آتی ، یہ بات سمجھانے کے لیے اسنے بید کی سوٹی بہت دفعہ میری آنکھوں کے سامنے رکھ کر میرے سر پر ماری تھی ۔ میں نے بھی لوگوں کو استاد کی مثال کی طرح سمجھا تھا وہ بہت دور سے آنے والا زمینی طوفان تو دیکھ گئے تھے ، لیکن انسانی شخصیت پر آنے والا اتنا بڑا طوفان انکو نظر نہیں آیا تھا ۔

Comments Off

انکل ٹام - نتیجہ :گھر داماد

Mar
26

اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر تم اب بھی ہاں کر دو تو میں اپنے گھر والوں سے بات کروں گی۔

تو تو نے ہاں کیوں نی کی ؟ میں نے تجھے کہا تھا کہ تو بکواسی ہے تو نے اس وقت بھی ضرور اپنا کوئی فلسفہ جھاڑ دیا ہو گا ۔

نہیں یار ایسی بات نہیں ،میں نے آسمان پر اڑتے ہوئے گوس کو اڑتے ہوئے دیکھا ، اصل میں بات یہ ہے کہ یہ مواقع جذباتی لمحات سے لبریز ہوتے ہیں ، لیکن کوئی حقیقت پسند انسان ایسے اوقات میں حقیقت پسندی نہیں چھوڑ سکتا ۔

بس فیر شروع ہو گیا نہ تیرا بکواسی فلسفہ ، کیا تجھے اپنی کوئی چیز کسی دوسرے کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کوئی افسوس نہیں ہوا ؟

افسوس ؟ افسوس کچھ نہیں ہوتا یار ، اپنے غلط فیصلوں پر پچھتانے کے عمل کو کسی نے ایک لفظ میں پرو کر افسوس کا نام دے دیا جسے تم انگریزی میں ناسٹیلجیا کہہ دیتے ہو ۔ اور میں تو اس کو اب بھی غلط فیصلہ نہیں سمجھتا ، میں نے اسکی طرف دیکھ کر پر اعتمادی طور پر سر کو نفی میں ہلایا۔اور پھر یار وہ چیز کبھی میری تھی ہی نہیں ، انسان کبھی کسی کا نہیں ہوتا ، وہ صرف اپنا ہوتا ہے اسکو ساری زندگی اپنے لیے جینی ہوتی ہے ، صرف اپنے لیے۔

تو پھر تو اسکو انکار کس چیز کا کر کے آیا تھا ؟

انکار ، شاید اسکی مدد کرنے سے ۔

ghardamad-300x195

مدد ؟ کیڑی مدد ؟

یار اس نے شہزاد کو کبھی پسند نہیں کیا تھا تجھے بتایا تو تھا کہ وہ اسکی بہن سے بھی شدید نفرت کرتی ہے ۔وہ اس شادی سے جان چھڑانے کے لیے میری مدد چاہتی تھی ، اور میں نے اسکی مرضی کے مطابق اسکی مدد کرنے سے انکار کیا تھا ۔

تو اس نے مدد مانگی تھی اسکے گھر والوں کے سامنے عشق کا ناٹک کرنے کی ۔

ابے نہیں یار ، تجھے میں نے کتنی دفعہ کہا ہے انڈین فلمیں کم دیکھا کر ، میں نے مُسکراتے ہوئے کہا۔

تو پھر شہزاد کے سامنے ناٹک کرنا ہو گا ۔

ابے نہیں یار، وہ چاہتی تھی کہ اسکے لیے یہ فیصلہ میں کروں۔اگر میں ناں کر دیتا تو وہ پاکستان نہ جاتی ، بس اتنی سی بات تھی ۔

ہاں تو وہی عشق کہانی ہی تھی نہ ۔

مجھے حیرت ہے وہ قتل والی کہانی کے بعد بھی تیرے دماغ میں عشق ہی اٹکا ہوا ہے ۔

قتل والی کہانی کونسی ؟

یار یاد نی جب تو نے مائی اور اس ٹھگنی کو ڈرا دیا تھا ٹمییز میں ۔

اچھا تو اسکو چھوڑ ، مجھے یہ بتا کہ تو جب یہ سب کچھ جانتا تھا تو تونے اسکو کیوں جانے دیا پاکستان۔

یار تجھے کس نے کہا ہے کہ میرے پاس اسکے پاکستان جانے یا نہ جانے کا اختیار تھا ، پاکستان تو اسنے پھر بھی اپنے گھر والوں کے پریشر پر چلے جانا تھا ، اور دو چار دن رو کر خود کو الزام دینا تھا اور چند دن بعد بھول جانا تھا ، اور یہ بھی اسکے فائدے کے لیے کیا میں نے ، تجھے ابھی سمجھ نہیں آئے گی ، کچھ سال رُک جا پھر دیکھنا ۔

یار تو نے اسکو ایسے شخص سے شادی کرنے سے نہیں روکا جس سے وہ شدید نفرت کرتی تھی بلکہ اسکے گھر والوں سے بھی ۔ اور تو کہہ را ہے کہ یہ سب اسکے فائدے کے لیے تھا ۔

ابے گھڑوس، وہ شہزاد سے نفرت کرتی تھی ، شہزاد تو اس سے نفرت نہیں کرتا تھا نہ ۔

اور تو نے پھر بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ ساری زندگی اس شخص کے ساتھ کیسے گزارے گی جس سے وہ نفرت کرتی ہے ۔

اپنے الفاظ کریکٹ کر ، نفرت کرتی ہے نہیں کرتی تھی ۔

یعنی تیرے خیال سے اب وہ نفرت نہیں کرتی ہو گی ؟

بلکل بلکہ اب ہو سکتا ہے دونوں میں ایک دوسرے کو ایم ایس این پر وہ سرخ گلاب پھولوں کے تبادلے ہوتے ہوں ۔یار بات یہ ہے کہ عورت کو مرد سے جتنی مرضی نفرت ہو شادی سے دو دن پہلے ہی اسکے دانت باہر نکل آتے ہیں ، اور پھر انسے پوچھو تو کہتی ہیں کہ شادی کی خوشی ہی ایسی ہوتی ہے ۔

یار یہ کیسے ممکن ہے ؟؟ مجھے تو لگ را تو کہیں میرے ساتھ جھوٹ بک را ہے ، یا تو نفرت بارے یا محبت بارے ۔

یار یہ محبت اور نفرت سب وقتی جذبات ہوتے ہیں اور یہ جذبات اور احساسات واقعات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں ،اگر واقعات اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہوں گے تو انسے جنم لینے والے احساسات بھی مثبت ہوں گے ، اور اگر وہ واقعات کسی کو دکھ پہنچا گئے ، کسی کا دل توڑ گئے تو منفی جذبات کو جنم دیں گے ۔ اصل میں اسکے پاس شہزاد سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں وہ شہزاد سے نفرت کرتی بھی نہیں تھی، وہ اصل میں اسکی بہن کو شدید ناپسند کرتی تھی ، اور یہ اصول یہ ہے کہ جب انسان میں جب کسی کی طرف پسندیدگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، تو اسکے اردگرد کے لوگوں اور چیزوں سے بھی پسندیدگی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں ، اور جب نفرت یا ناپسندیدگی کے جذبات میں بھی یہ ہی حال ہوتا ہے ۔

اچھا چل میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ اسکو شہزاد سے نفرت نہیں تھی اور یہ صرف اسکا خام خیال تھا ، لیکن تو نے کہا ہے کہ اس شادی مین اسی کا فائدہ ہے ، تو مجھے یہ فائدہ سمجھا ۔

ہاں فائدہ ، تو مجھے یہ بتا کہ موٹی تیرے آگے پیچھے پھرتی ہے یا تو موٹی کے آگے پیچھے پھرتا ہے ؟

یار تجھے کتنی دفعہ کہا ہے کہ اسکو موٹی نہ کہا کر ، وہ صرف تھوڑی سی صحت مند ہے ۔

اچھا چل میں تیرے لیے اپنا جملہ تبدیل کرتا ہوں ، یہ بتا کہ مس صحت مند تیرے آگے پیچھے ہوتی ہیں یا تو مس صحت مند کے آگے پیچھے ۔

یار آگے پیچھے کیا بس میں اسکو پسند کرتا ہوں وہ فلحال نہیں کرتی ۔

ہاہاہا چول مار گیا نہ تو ، تو مان یا نہ مان وہ تجھے پسند نہیں کرتی اسی لیے تو اسکے آگے پیچھے پھرتا ہے ۔
بس یہ ہی ثانیہ کے کیس میں بھی ہے ۔ شہزاد اسکے آگے پیچھے رہے گا ۔ کیونکہ دونوں کو پتا ہے کہ یہ شادی شہزاد کی پسند کی ہے جبکہ ثانیہ کی ناپسند ہے نہ مرضی ۔

اب شہزاد ساری عمر رن مرید بن کر گزارے گا ۔ اور یہ بڑا نکتہ نہیں ہے ۔ یہ تو صرف جزوی چیز ہے ۔

مطلب تیرے پاس اس سے بھی بڑا نکتہ ہے ، اس نے حیرانگی سے سگریٹ پھینکتے ہوئے کہا ۔

ہاں

وہ کونسا ؟

یار پاسپورٹ ہے نہ ثانیہ کے پاس، تو وہ کینیڈا آئے گا کہ نہیں ۔

ہاں تو اس سے کیا ؟

ابے جب دلہن کی بجائے دلھا رخصتی کر کے جائے تو اسکو کیا کہتے ہیں ؟

گھر داماد ، گھر داماد ، گھر داماد اوووہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ بڑی بغیرت چیز ہے یار توُ تو ۔

اور رہی بات اسکی بہن کی اور اسکی ماں کی ، تو وہ پاکستان ہوں گی ، اور تجھے تو پتا ہی ہے کہ یہاں والوں کے پاس کتنا ٹائم ہوتا ہے ادھر فون کرنے کا اور ادھر والوں کے پاس کتنی فرصت ہوتی ہے ادھر فون کرنے کی ۔ اور پھر رشتے داریاں دور کی ہی اچھی ہوتی ہیں ۔

Comments Off

انکل ٹام - حلال سور دستیاب ہے !!!۔

Feb
19

آج ایک بندے نے دکان پر فون کر کے پوچھا کہ کیا آپکے پاس ’’حلال چکن ونگز‘‘ ہیں ، میں نے کہا ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو حلال نہ ہو، لیکن حیرت مجھے اس بات پر ہوئی کہ لوگ ایسی جگہوں سے چیزیں کیسے خرید لیتے ہیں جہاں پر حرام چیزیں بھی موجود ہوتی ہیں ؟  اس سے مجھے نعیم کے ساتھ ہونے والی وہ بحث یاد آگئی جو کالج کے باہر ’’ہاٹ ڈاگ‘‘ سٹینڈ پر بکنے والے حلال ہاٹ ڈاگز پر ہوئی تھی ، اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ ہاٹ ڈاگز بیچنے والا افغانی مسلمان ہے ، وہ ہاٹ ڈاگز بیچتا ہے جو کہ حرام ہوتے ہیں ، عمومی طور پر ہاٹ ڈاگز سور کے بنے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ صاف صاف اپنے مسلمان کسٹمرز کو بتا دیتا ہے کہ میرے پاس حلال ہاٹ ڈاگز بھی ہیں لیکن وہ پکیں گے اسی جگہ پر جہاں حرام والے پک رہے ہیں ۔

میری اور نعیم کی بحث اس بات پر ہو رہی تھی کہ آیا اگر وہ اس گرل کو صاف کرے جیسا کہ وہ کر دیتا ہے تو کیا اس پر حلال والے ہاٹ ڈاگز حلال رہیں گے یا نہیں ، میرا نکتہ نظر یہ تھا کہ وہ اسکے باوجود حرام ہی رہیں گے ، کیونکہ گرل کی سلاخوں پر حرام والوں کا تیل اچھی طرح جم چکا ہے اور اسکو صاف کرنے سے بھی وہ چکنائی مکمل طور پر نہیں اترے گی ، اور اب وہ صرف آپکا ایک ہاٹ ڈاگ بنانے کے لیے تو اسکو  ’’سرکے کے پانی‘‘ سے اچھی طرح دھونے سے رہا ۔

اسی طرح ایک دوسرے صاحب نے آج فون کیا ، وہ چاہتے تھے کہ آدھے پیزے پر تین ٹاپنگز ایک طرح کی ہوں جبکہ باقی آدھے پر تین دوسری طرح کی ہوں ، مجھے تو بھائی نے کہا ہوا ہے کہ ایک ٹاپنگ مفت میں آدھے آدھے پر ہو سکتی ہے لیکن تین کا نہیں کریں گے ، اگر کسی کو کروانی ہے تو زائد پیسے چارج کریں گے ، لہذا یہ ہی بات میں نے ان صاحب کو بھی بتا دی ، تو وہ کہنے لگے کہ ’’پیزا پیزا‘‘ والے تو ایسا نہیں کرتے ، چونکہ سٹور تھوڑا مصروف تھا اس وقت لہذا میں انکے ساتھ اس مسئلہ پر بحث نہیں کر سکتا تھا کہ ہم لوگ پیزا پیزا کے مقلد نہیں ہیں ، اسی لیے میں نے انکو یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ بھئی اس دفعہ کر دیتا ہوں اگلی دفعہ مجھے پتا کرنا پڑے گا ۔

لیکن یہ ایک دوسرا موضوع تھا حیرت کا ، کہ آپ لوگ پیزا پیزا سے پیزا کیوں خرید کر کھاتے ہیں ، وہاں تو حرام بکتا ہے ۔ ایک دفعہ میں اور اسد پیزا پیزا چلے گئے ، اسد تو پہلے بھی وہاں سے چیس اور سبزی والا لے کر کھا لیتا تھا کیونکہ وہاں کام کرنے والے ایرانی تھے ، اور انہوں نے اسکو بتایا ہوا تھا کہ ہم آپکو حلال بنا کر دیں گے اسد اکیلا نہیں تھا جو ان پر اعتبار کر کے پیزا وہاں سے کھا لیتا تھا بلکہ میرا بڑا بھائی اور اسکے چند دوست بھی اس کام میں اسکے ساتھ شامل تھے ۔ لیکن جب میں وہاں گیا اور انکو خالی چیس پیزا بنانے کے بجائے یہ کہا کہ حلال چیس استعمال کریں تو انکو پریشانی ہوئی ، کیونکہ ایسے سوالات انکے پاس شاذ و نادر ہی آتے ہوں گے۔ اسی لیے جو بابا جی پیزا بنا رہے تھے انہوں نے کہہ دیا کہ مین اس دفعہ ہاتھ صاف کر کے حلال چیس استعمال کر کے پیزا بنا رہا ہوں لیکن یہ ہر دفعہ یہاں کوئی اتنا محتاط نہیں ہوتا لہذا شہر میں بہت سے حلال پیزا سٹور موجود ہیں تم لوگ یہاں مت آنا ۔ اور اسکے بعد سے اسد بھی میری طرح تکے کبابوں پر گزارا کر رہا ہے ۔

میں نے ابو سے یہ ہی بات کی کہ یہ بندا پیزا پیزا سے کیوں کھاتا ہے ، ابو نے کہا تو اسکو چھوڑ کل ’’فُلاں‘‘ پیزے پر ایک مسلمان کام کرتا ہے وہ میرے پاس آیا ، وہ بتا رہا تھا کہ ہمارا مالک ( جو کہ مسلمان نہیں ہے ) ہمیں کہتا ہے کہ جب ’’حلال چکن ونگز‘‘ ختم ہو جائیں تو تم لوگ حرام والے ڈبے میں سے نکال کر گاہک کو بنا دیا کرو ، اب وہ گاہک کو بنا کر دے دیتے ہیں  اور اسکو یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ حرام ہے ، کیونکہ اگر ایسا انہوں نے کیا تو انکی نوکری چلی جائے گی ، کیونکہ انکو وہاں رکھنے کا مقصد کام کروانا نہیں ہے بلکہ مسلمان گاہکوں کو یہ بتانا ہے کہ یہاں کام کرنے والا مسلمان ہے اور باہر جو حلال لکھ کر لگایا ہوا ہے اس سے وہ بھی  ’’ویلیڈ‘‘ رہتا ہے ۔  اور لوگ مزے سے وہاں سے پیزا لے کر کھاتے ہیں اور حلال چکن ونگز سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ ابو بڑے غصے سے کہتے ہیں کہ پھر اور کھاو ایسی جگہوں سے جسکو چلانے والا کافر ہے ۔ میں نے تو ابو کو کہہ دیا کہ یہ  کسی پر اعتبار نہ کرنی کی یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ بندا کافر ہے ۔ لیکن یہاں تو حالت ایسی ہے کہ آپ کسی مسلمان پر بھی اس بارے اعتماد کرتے ہوئے ہزار دفعہ چیک کرنا پڑے گا ۔ Non-Halal-Food-for-Kids

اب حلال کا لفظ اتنا عام ہو چکا ہے یہاں کہ ہر چائنیز نے اپنی دکان باہر حلال لکھ کر لگایا ہوا ہے۔ ایک دفعہ میں ایک کلاس کے لڑکے کے ساتھ (جو کہ سکھ تھا) ایک چائنیز ریسٹورانٹ چلا گیا، اسکو کچھ کھانے کو خریدنا تھا ، وہاں پہلے سے ایک مسلمان جوڑا اپنے بچوں سمیت کھا رہا تھا دکان کے باہر حلال بھی لکھا ہوا تھا، آنٹٰی سے میں نے پوچھا کہ آپ لوگ چکن کہاں سے خریدتے ہیں تو آنٹی کا پارہ چڑھ گیا اور آنٹی نے مجھے ’’چنگلش‘‘ میں بے نقط سنائیں۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک پلازے میں کافی بڑا چائنیز ریسٹورانٹ ہے ، اور اسکا مالک بھی مسلمان ہے ، دلوں کے حال اور دل میں چھپا ہوا ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح کا مسلمان ہے ریسٹورانٹ میں شراب بھی رکھی ہوی ہے ، لیکن حلال لفظ چونکہ گاہک لا کر دیتا ہے آپکو اسی لیے اس نے دکان کے باہر بڑا بڑا لکھ کر لگایا ہوا تھا ’’حلال مالک‘‘ ابو اسکو دیکھ دیکھ کر ہنسا کرتے تھے ، کہ بھلا مالک بھی حلال ہوتا ہے ۔  اسی طرح ایک اٹالین کا لطیفہ بڑا مشہور ہے کہ اسکو کسی نے بتا دیا کہ اپنے ریسٹورانٹ پر حلال بھی لکھ کر لگا دو تو بہت مسلمان گاہک بھی آنا شروع ہو جائیں گے اور اسنے دکان باہر بڑا بڑا لکھ کر لگوا دیا ’’ حلال سور دستیاب ہے ‘‘۔

Comments Off

انکل ٹام - ویلنٹائنز ڈے اور ہمیشہ کے تنہا

Feb
15

مجھے پتا تھا آج کا دن منہوس ہی ہونا تھا ، بس سٹاپ پر پہنچ کر جب مجھے اپنے ’’پارشلی‘‘ اندھے ہونے کا احساس ہوا تو میں نے آنکھوں پر ہاتھ مار کر عینک کی غیر موجودگی کا ثبوت حاصل کرتے ہوئے سوچا۔ چلو خیر ہے ، کالج کے لاکر میں ایک سیفٹی گلاسسز کے نیچے پہننے کے لیے جو رکھی ہے وہی چل جائے گی ، یہ سوچتے ہوئے میں اندھے پن میں ہی کالج گیا تھا ، کیونکہ نہاتے ہوئے گرم گرم پانی سے چسکے بازی کرتے ہوئے مین نے اتنا وقت تو ضائع کر ہی دیا تھا کہ اب واپس جا کر عینک اٹھا لینا تو کجا کالج جا کر ’’کورآل‘‘ پہننے کے چکر میں ہی اتنا لیٹ ہو چکا تھا کہ جب لیب پہنچا تو حاضری پہلے ہی لگ چکی تھی ، لیکن اپنے گھنٹے مجھے مل ہی گئے تھے کیونکہ مجھے اتنی بھی دیر نہیں ہوئی تھی ۔

گیارہ ک بجے وائبریٹ ہوتے فون کو جب میں نے جیب سے نکالا تو ’’مِسی‘‘ نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’اوہ تمہارا فون بھی بجتا ہے‘‘ ، دل تو میرا یہی کیا تھا کہ اسی موٹے بلیک بیری کو اِسکے ’’وڈے‘‘ سے منہ پر مار کر اپنے دل کی تسکین کر لوں، لیکن فون بھی تو سننا تھا نہ ۔ جی امی جی ؟ تمہاری عینک تو یہاں کرسی پر رکھی ہے تم ٹھیک سے چلے گئے تھے نہ کالج، کوئی دوسری عینک پہن لی تھی ؟ ، جی امی جی ، بس میں لڑکیاں نی تاڑ سکا تھا باقی سب تو ٹھیک تھا ، میرے لاکر میں ایک عینک رکھی ہوئی ہے اسی لیے وہ واپس لینے نہیں آیا تھا ۔  بغیرت کہیں کا، امی نے میرے بکواسی مذاق پر کمنٹ کیا ۔

تو کیا کہا تمہاری امی نے ؟ لیب میں داخل ہوتے ہی مِسی کا پہلا سوال یہی تھا ، اسکو پتا تھا کہ میرا فون اسی وقت بجتا ہے جب شاذو نادر کسی کو میری کسی معاملے میں ضرورت ہو ، یا پھر امی کو یہ پوچھنا ہو کہ گھر کب آو گے ۔ اسکے یہ سوال پوچھنے پر ہی مجھے کورینز کی کریاسٹی پر شدید غصہ آیا اور دوبارہ دل کیا کہ بلیک بیری اسکے ’’وڈے‘‘ منہ پر دے مارا جائے ، ویسے بھی جب سے میرا ’’آئی پاڈ ٹچ چار‘‘ چوری ہوا ہے میرا دل ’’آئی فون پانچ‘‘ خریدنے کو کچھ زیادہ ہی للچانے لگا ہے۔

آج کالج ایسے وقت میں ختم ہو گیا تھا کہ شام کو ’’جِم‘‘ جایا جا سکے ، آج جِم جانے کا دل زیادہ اسی لیے بھی کیا کیونکہ مجھے پتا تھا سارے بغیرت آج ’‘ڈیٹ‘‘ رہے ہوں گے اور جم میں دو چار بندے ہی ہوں گے، لہذا بچیس کلو کو پانچ دفعہ اوپر نیچے کر کے میرے پھولے ہوئے سانس پر ہنسنے والے بھی کم ہی ہوں گے ۔
لیکن بس میں داخل ہوتے ہی غصے اور افسوس میں اضافہ ہوا ، ایک تو چول لوک اپنی گرل فرینڈوں کو پھولوں کے گلدستے دیتے ہیں اور پھر انکو گھر چھوڑنے تک یہ بوجھ انکے لیے اٹھائے بھی پھرتے ہیں ۔  لیکن غصہ مجھے اس بات پر نہیں آیا تھا غصہ تو مجھے اس لڑکی کو دیکھ کر آیا تھا جس نے اپنے قَد سے بڑا چاکلیٹ کا ڈبہ اٹھایا ہوا تھا ، چاکلیٹ چاکلیٹ چاکلیٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے چاکلیٹ، یہ تو میں ہی جانتا ہوں اس وقت اپنے دانتوں سے ٹپکنے والی رال کو میں نے کیسے روکا تھا ۔ بس یہ چاکلیٹس دیکھ کر مجھے ایک گرل فرینڈ نہ ہونے کا جتنا افسوس ہوا اتنا کبھی نہ ہوا، کوئی میری بھی گرل فرینڈ ہوتی اور مجھے بھی ایک ’’فریرو راچر‘‘ کا ڈبہ ملتا، گلاب کے ایک لمبی ڈنڈی والی پھول کے بدلے اگر ایک ڈبہ فریروراچر کا مل ہی جائے تو کوئی گھاٹے کا سودا تو نہیں ہے ۔  ویسے بھی ’’فریرو راچر‘‘ دیکھ کر میری حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسی ناروٹو کی رامین دیکھ کر۔

برف تو پڑ ہی رہی تھی، لیکن اتنی بھی نہیں تھی کہ یہ سارے دروازے پر ہی کھڑے ہو جائیں ، میں نے جِم میں داخل ہوتے ہوئے ان تین چار لڑکوں کو دیکھا جو سامنے والی شیشے کی دیوار کے سامنے کھڑے تھے ، اندر جا کر پتا چلا کہ یہ برف سے ڈر کر نہیں یہاں کھڑے بلکہ جِم کے اندر والے حصے میں لڑکیوں کی ’’باسکٹ بال‘‘ ٹیم پریکٹس سیشن میں ہے ، تبھی یہ تو یہ ٹھرکی چول یہاں کھڑے ہیں ۔  جِم میں آج واقی کم لوگ تھے ، بہت صرف ایک دو لڑکے ایسے نظر آئے جو اکثر نظر آتے ہیں ، باقی تو ایسے ہی تھے جنکو آج پہلی فعہ ہی دیکھا تھا، شاید یہ بھی ڈیٹ نہ ہونے پر یہاں غم غلط کرنے آئے ہیں ، آج تو بیچارے پینے پلانے بھی نہیں جا سکتے۔

جم میں بھی اچھی کہانی ہوئی ، ایک بیچ میٹ وہاں پر نظر آگیا تھا ، پچھلے سیمیسٹر میں یہ احمد کے گروپ میں تھا، سیمیسٹر کے فائنل امتحانوں میں احمد نے ان سب کو کہہ دیا کہ میرے نوٹس کام آئیں گے ، ویسے بھی میرے نوٹس کافی اچھے ہوتے ہیں ، انکو پڑھ کر میں پاس ہوں نہ ہوں لیکن دوسرے انکو پڑھ کر ضرور پاس ہو جاتے ہیں ، لیکن کسی وجہ سے احمد ان لوگوں کو میرے نوٹس دینا نہیں چاتا تھا ، بقول ڈفر ’’علم پر ناگ بن کر بیٹھنا‘‘ چاہتا تھا۔ احمد کی یو ایس بی میں یہ نوٹس ابھی جا رہے تھے جب اسکا فون آیا ۔

احمد: یار وہ اس کلاس میں ہے ہی نہیں ، مجھے فون پر اسنے اسی کلاس کا نمبر بتایا تھا اور اب میں ادھر آیا ہوں تو یہ خالی پڑی ہے ۔ ( حالنکہ میں اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا )۔

احمد: ہاں یار وہ اسی کورین کے ساتھ کہیں ڈیٹ پر چلا گیا ہو گا۔  (میری چھوٹتی ہنسی پر احمد نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش ہونے کا اشارہ کیا (۔

دوسری طرف سے : چل اب ملے تو پکڑ کر مارنا اُسے ۔

احمد: ابے میں اسکو نہیں مار سکتا ۔

دوسری طرف سے : کیوں اتنا بڑا جس رکھ کر اس سے ڈرتا ہے ۔

احمد: ابے اسکے اداس چہرے پر نہ جا وہ کک باکسنگ جانتا ہے ، موئے تھائی کرتا ہے ۔ وہ تو مجھے ایک ہی کک مارے گا ۔ ( اب تو میں نے بڑٰ مشکل سے ہی ہنسی روکی تھی )۔

بہرحال اس بندے کو جم میں دیکھ کر مجھے ہنسی آئی میں نے مشین سے اٹھتے ہوئے ’’پِن‘‘ بچیس کلو سے نکال کر پچاسی کلو میں اٹکا دی ۔ جسٹ انکیس نہ اگر وہ اس مشین پر آہی جائے تو :ڈ:ڈ:ڈ::ڈ:ڈ۔۔۔۔۔۔۔۔:ڈ:ڈ:ڈ::ڈ:ڈ:ڈ:ڈ:۔

نوٹ: یہ تحریر حجاب شب کے فیس بکی سٹیٹس سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے ۔

Comments Off

انکل ٹام - اوور کانفیڈینٹ

Feb
10

ہمارے ایک استاد صیب ہیں ، پہلے سمیسٹر میں پبلیکیشنز کا کورس پڑھاتے تھے، پبلیکیشن جہاز کی ٹیکنیکل ڈرائنگز، اسکے مینول سے معلومات تلاشنا وغیرہ وغیرہ جیسی چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے ،  اس کورس میں میرا ’’اے  پلس ‘‘ آگیا تھا  اسکی وجہ یہ ہے کہ استاد صیب غصے کے بڑے ہیں بلکہ پورے ڈپارٹمنٹ میں انکا غصہ مشہور ہے ، اگر یہ آپ سے سوال پوچھ لیں دورانِ کلاس اور آپکو جواب نہ آتا ہو تو بس پھر اللہ کی رحمت ہی آپکو بچا سکتی ہے ۔ پچھلے دن کلاس میں آئے میرا خیال ہے آنے سے پہلے ہی غصے میں تھے اور شروع ہو گئے ۔

کسی ’’اے ایم او ‘‘ (ائیر کرافٹ مینٹیننس آرگنائیزیشن ) نے کالج کو ای میل بھیجی تھی کسی ایسے طالب علم کے بارے جس نے ہمارے کالج سے ڈپلومہ لیا تھا اور انکی کمپنی میں جاب شروع کر دی تھی۔  اسکا ریزیمو اسکے بہت زیادہ باصلاحیت ہونے کی گواہی دے رہا تھا ، بلکہ اس طالب علم نے  جہازوں کی ایک قسم (جن پر اس نے صرف ایک ہفتہ کام کیا تھا ) کا خود کو ماہر بتایا بلکہ یہ تک بتایا کہ وہ ایک ائیر لائنز میں پائلٹ بھی رہ چکا ہے ۔ کمپنی والوں نے اس پر بڑا اعتماد کیا اور ایک جہاز جب ٹھیک ہونے کے لیے آیا تو اس سے پوچھا کہ کیا اسکو یہ مخصوص کام اس پر کرنا آتا ہے ، اسنے بڑے زور دار طریقے سے ہاں کہا اور اسکا باس اسکو وہ ٹاسک دے کر چلا گیا ، اور اسنے کر بھی دیا ۔ لیکن جیسا کیا تھا اسکی وجہ سے کمپنی کو بہت نقصان ہوا۔

بعد میں جب کمپنی نے تحقیق شروع کی تو پتا چلا کہ اسکا ریزیومے انٹرنیٹ سے کسی دوسرے بندے کے ریزیومے کا چربہ ہے اور یہ بھی کہ اسنے نوکری حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کے بارے حد سے زیادہ جھوٹ بولا ہے ۔ اب اے ایم او نے کالج کو ای میل کر کے شکایت کی تھی کہ آپکے پاس سے گریجویٹ ہونے والا طالب علم ہم کو ایسا مکو ٹھپ کر گیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اب ہم آئندہ کسی کالج سے کوئی طالب علم کو اپنے پاس نوکری نہیں دیں گے بلکہ باہر کے لوگوں کو ہائیر کر کے خود تربیت دیں گے ۔

overconfident1

اسکو کہتے ہیں ایکسٹرا ایکسٹرا اور کانفیڈینٹ ہونا، ہمارے لوگوں میں یہ بہت پایا جاتا ہے اور دوسروں کو مکو ٹھپنے کے لیے خوب استعمال ۔ اب کل ایک صاحب مجھے مکو ٹھپنے آگئے ، تیس ڈالر کا انکا بل بنا تھا اور انہوں نے تین کارڈ جیب سے نکال لیے اور کہنے لگے کہ مجھے ہر کارڈ پر دس دس ڈالر چارج کر لو ، میں نے کہا جناب یہ دیکھیں سامنے کاغذ پر لکھا لگا ہے کہ کریڈیٹ کارڈ سے پیسے نہیں وصولے جاتے صرف ڈیبیٹ کارڈ لیتے ہیں ہم لوگ اور ہاتھ میں جو آپنے پکڑا وا یہ کریڈیٹ کارڈ ہے ، تو جناب نے میری طرف دیکھا کہ نہیں یہ ڈیبیٹ کارڈ ہے یعنی جیسے میں اندھا ہوں اور مجھے اس پر ویزا لکھا وا نظر نہیں آرہا ، پھر کا جناب میں آپکو ہر کارڈ پر دس دس ڈالر نہیں چارجسکتا کیونکہ ہمیں ہر ٹرانزیکشن پر پیسے لگتے ہیں، حالانکہ اکثر دکانوں والے وہ چارج بھی کسٹمر سے وصولتے ہیں ہر کسٹمر کے بل میں ایکسٹرا پچیس سینٹ ڈال کر لیکن جہاں آپ کسی کو انگلی پکڑائیں وہ پورا ہاتھ پکڑنے کے چکر میں لگ جاتا ہے ، صاحب نے میرے ساتھ بحث چھیڑ دی کب لگتے ہیں؟ کتنے لگتے ہیں ، کیوں لگتے ہیں ۔ چونکہ انہوں نے دکان میں مجھے پہلی بار دیکھا تھا لہذا سمجھے کہ میں کل کا بچہ ہوں۔  میں نے کہا جناب یہ جو مشین یہاں رکھی ہے نہ ، یہ میں نے ہی لگوائی تھی ۔ اسکے بعد مین تو کاونٹر سے پیچھے چلا گیا لیکن وہ صاحب میرے بھائی کو کہہ رہے یار یہ تمہارا بڑا بھائی تو بہت تیز ہے ، بھائی نے کہا یہ بڑا تو داڑھی کی وجہ سے لگتا ہے بڑا تو میں ہوں ۔

ہم پاکستانیوں میں اور کانفیڈینس اتنا زیادہ ہے کہ آپ انکو کوئی نئی بات نہیں بتا سکتے اسکی وجہ یہ ہے کہ سب کچھ انکو پہلے سے پتا ہوتا ہے ، اگر نہیں یقین تو پاکستان میں بسنے والے اپنے کسی کزن کو فیس بک پر پکڑیں اور کسی نئی چیز کے بارے بتانا شروع کر دیں جب آپ ساری بات بتا چکیں تو وہ فوراً کہے گا یار اسکا تو مجھے پچھلے مہینے سے ہی پتا چل گیا تھا ہماری کلاس میں ایک لڑکا ہے جسکے ابو کے بھائی کے دوست کا کزن اپنی پھپھی کے بیٹے کو لے کر آیا تھا جو جاپان میں ایک ایسی فیکٹری میں کام کرتا ہے جس نے یہ ٹیکنالوجی ایجاد کی تھی وہی ہمیں دکھا بھی رہا تھا اور اسنے سب کچھ بتایا ۔

سبحان اللہ ماشااللہ جناب ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نے اس ٹیکنالوجی پر آپکو لیکچر دے کر آپکا نہایت قیمتی وقت ضائع کیا اور آپ فیسبک پر بچیوں کی تصویریں تاڑنے سے محروم رہ گئے۔

میرا چھوٹا بھائی جب ہم کینیڈا آئے تو الیمینٹری سکول میں پڑھتا تھا ، اسی لیے اسکو انگریزی اردو سے زیادہ سمجھ آتی ہے ، اسی لیے جب مجھے اس سے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہوتی ہے تو انگریزی میں اردو ملا کر کرتا ہوں تاکہ اسکو اچھی طرح سمجھ آجائے لیکن کہانی کل یہ ہوئی کہ ایک کزن نے اسکے سلینگ میں کیے گئے ایک کمنٹ کو پڑھ کر اسکی انگریزی کی گرامر ٹھیک کرنا شروع کر دی  لیکن اسمیں چسکے کی بات یہ ہے کہ ہمارے وہ کزن صیب پاکستان میں ایک اردو میڈیم سکول سے تعلیم حاصل کرتے تھے جو تھا بھی گورنمنٹ کا ، باقی تُسی آپے بڑے سمجھدار ہو ، آج صبح میرا بھائی مجھ سے اس روئیے بارے پوچھ رہا تھا تو میں نے اسکو کہا کہ بھائی یہ ایکسٹرا ایکسٹرا اور کانفیڈینس کی بیماری ہے جسکا تعلق صرف پاکستانیوں سے نہیں بلکہ یہ گوروں ، کالوں ، نیلوں پیلوں ، مسلمان اور کافروں سب میں یکساں پائی جاتی ہے ۔

Comments Off

انکل ٹام - تارے

Feb
04

دکان سے باہر نکلتے ہی میری نگاہ آسمان کی طرف گئی ، کافی تارے موجود تھے ، پتا نہیں یہ ٹورانٹو میں کیوں نظر نہیں آتے ، میں نے سوچا ، خالی چاند بغیر تاروں کے کتنا عجیب سا لگتا ہے ، گنجا گنجا سا لگتا ہے ۔ لاہور میں پلیوشن ٹورانٹو سے کہیں زیادہ ہے ، مجھے یاد ہے ایک دن میں بھاٹی گیٹ سے ویگن میں سب سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا ، ویگن چلی تو شیشے سے پیچھے دیکھا تو بھاٹی گیٹ دکھائی نہ دیا ، اتنی گرد تھی ۔ لیکن اسکے باوجود بھی رات کو جب چھت پر سوتے تھے تو ڈھیروں تارے آسمان پر ہوتے تھے ، بہت دفعہ گننے کی کوشش کی ، بہت دفعہ تارے گنتے گنتے ہی نیند آجایا کرتی تھی ، لیکن تارے تھے کہ کبھی پورے گنے ہی نہیں گئے ۔  بہت دفعہ امی سے دمدار ستاروں کے بارے پوچھا، کبھی چلتے ہوئے تاروں کو دیکھ کر سیٹلایٹس کے بارے میں معلومات ملیں تو کبھی امی نے تاروں سے بننے والے ’’ک‘‘ اور تاروں کے مدد سے راستے تلاش کرنے کے بارے بھی بتایا ۔

رات کو دادا کی  ٹانگیں دباتے ہوئے بھی آسمان میں تارے موجود ہوتے تھے ، کبھی دادا ابو جب اپنے بچپن کی کہانیاں سناتے سناتے خاموش ہو جاتے تو بھی  میں تارے ہی دیکھا کرتا تھا۔ پتا نہیں یہ کمخت تارے کیوں ٹورانٹو سے اتنی دشمنی کرتے ہیں ۔  میں سوچ رہا تھا کہ ایک چھوٹی ٹیلی سکوپ خرید لوں لیکن اسکو رکھنے کے لیے بھی تو کوئی جگہ نہیں ہے ۔

stars_1230_600x450

Comments Off

Featuring YD Feedwordpress Content Filter Plugin