چھوٹے نواب کہتے ہیں کہ اپنے پاس موجود بےپناہ دولت سے پریشان ہو گئے ہیں۔ اب وہ کوئی نیا منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیا کیا جائے؟ ۔۔۔ مگر پھر جو منصوبہ انہوں نے بتایا ۔۔۔۔
میرا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔۔ میں کچھ زیادہ ہی دولت کمانے لگ گیا ہوں ۔۔
اب میرا منصوبہ یہ ہے کہ ۔۔۔ ایک نئی کامکس ویب سائیٹ بنائی جائے ۔۔ بہترین کارٹون ، عمدہ کہانیاں ۔۔۔ اس سے بھلا کیا فائدہ ہوگا؟ ویب سائیٹ بہت جلد مقبول ہوگی ۔۔ زیادہ سے زیادہ اشتہار اور اسپانسرز ملیں گے ، اور یوں زیادہ سے زیادہ دولت ہاتھ آئے گی!
چھوٹے نواب کچھ بھی بول لیں مگر ۔۔۔ ہر اردو چاہنے والے کو “اردو کارٹون دنیا” پڑھنا چاہیے کیونکہ اردو میں کارٹون/کامکس کی اس سے اچھی ویب سائیٹ اور کوئی نہیں!
ہاشم آملہ کی بلے بازی اور مورنے مورکل کی گیند بازی میزبان نیوزی لینڈ کے لیے کافی ثابت ہوئی جو مسلسل دوسرے ایک روزہ میچ میں شکست کے ساتھ سیریز اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھا اور اب اسے کلین سویپ کے لالے پڑے ہوئےہیں۔ نیوزی لینڈ کے 230 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ نے ہاشم آملہ کی 92 رنز کی اننگز پر سوار ہو کر محض 39 اوورز میں اپنا سفر مکمل کر لیا۔
ہاشم آملہ بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر پائے اور 92 رنز پر آؤٹ ہو گئے (تصویر: Getty Images)
اگر کہا جائے کہ نیوزی لینڈ نے اپنے ہاتھوں سے مقابلہ گنوایا اور جنوبی افریقہ کو طشتری میں رکھ کر پیش کیا تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ 33 ویں اوور تک 163 پر اس کے صرف دو کھلاڑی آؤٹ تھے لیکن بلے بازوں کی احمقانہ جارح مزاجی اور جنوبی افریقہ کی مخصوص پھرتیلی فیلڈنگ نے اس کی اننگز کو بریک لگا دیے۔ نیوزی لینڈ نے اپنی تین وکٹیں اس وقت گنوائیں جب پاور پلے تھا اور بیشتر فیلڈرز دائرے کے اندر تھے۔
کین ولیم سن کی وکٹ گرنے سے اس زوال کا آغاز کیا۔ انہوں نے پاور پلے کے دوران باؤلر لونوابو سوٹسوبے کے اوپر سے گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانا چاہی لیکن گیند کی رفتار سے دھوکا کھا گئے اور ہوا میں اچھال بیٹھے۔ بظاہر تو گیند ‘محفوظ علاقے’ میں گرنے کا ہی امکان نظر آتا تھا لیکن ژاک کیلس کی الٹی دوڑ اور جست نے ان کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ پھر برینڈن میک کولم کی باری آئی، جو ایک اور نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوا، اور عین باؤنڈری لائن پر فیلڈر کو کیچ تھما بیٹھے۔ جیسی رائیڈر ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور ڈیل اسٹین کی گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے۔ سوٹسوبے اور اسٹین کی جانب سے دراڑ ڈالنے کے بعد مورنے مورکل کو نیوزی لینڈ کے نچلے آرڈر پر چھوڑ دیا گیا جنہوں نے تباہ کن گیند بازی کے ذریعے بقیہ تمام بلے بازوں کا صفایا کر دیا۔ صرف ٹم ساؤتھی 28 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کر پائے لیکن اس کے باوجود پوری ٹیم 48 ویں اوور میں 230 کے ناکامی مجموعے پر ڈھیر ہو گئی۔ مورکل نے محض 38 رنز دے کر نیوزی لینڈ کی آخری پانچوں وکٹیں اپنے نام کیں اور ایک روزہ کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ یوں نیوزی لینڈ کی آخری 8 وکٹیں اسکور میں محض 67 رنز کا اضافہ کر پائیں جبکہ مارٹن گپٹل اور برینڈن میک کولم کی 107 رنز کی شراکت داری سے لگتا تھا کہ نیوزی لینڈ با آسانی 300 کی نفسیاتی حد عبور کرے گا۔ میک کولم نے 85 اور گپٹل نے 58 رنز بنائے اور پورے میچ میں نیوزی لینڈ کے لیے واحد مثبت عنصر رہے۔
فیلڈنگ اور باؤلنگ میں شاندار کارکردگی کے بعد اب جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کی باری تھی جنہوں نے ابتداء ہی سے فتح کی جانب پیشقدمی جاری رکھی۔ ہاشم آملہ نے نیوزی لینڈ کے گیند بازوں کو آغاز ہی میں 6 چوکوں کی سلامی پیش کی۔ گو کہ زخمی گریم اسمتھ کی جگہ اوپن کرنے والے ژاک کیلس شروع ہی میں پویلین سدھار گئے لیکن ہاشم کا سفر بغیر کسی مشکل کے جاری رہا، جن کی کراری باؤنڈریز نے رن اوسط کو ہمہ وقت 6 رنز سے اوپر رکھا اور محض 20 اوورز میں جنوبی افریقہ نیوزی لینڈ کے نصف اسکور کو حاصل کر چکا تھا۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے تارون نیتھولا نے عمدہ گیند بازی کی۔ وہ واحد گیند باز تھے جن کے سامنے ہاشم آملہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی گیند پر دو مرتبہ فیلڈرز نے مواقع ضایع کیے ایک مرتبہ راب نکول نے ہاشم آملہ کا کیچ چھوڑا جبکہ جیسی رائیڈر ژاں پال دومنی کا کیچ تھامنے میں ناکام رہے۔ لیکن بالآخر وہ ان دونوں بلے بازوں کی وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
اب دونوں ٹیمیں سنیچر کو آکلینڈ میں تیسرا ایک روزہ کھیلیں گی، جہاں جنوبی افریقہ فتح کے ذریعے کلین سویپ کی تکمیل کی کوشش کرے گا جبکہ نیوزی لینڈ اپنی عزت بچانے کی فکر کرے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرح اپنے موجودہ کپتان کو ہٹائے جانے کے معاملے کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ ایک جانب جہاں بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ کے لیے مہندر سنگھ دھونی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے مصباح الحق کو کپتان کی حیثیت سے ہٹائے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ذکا اشرف نے کہا کہ بحیثیت قائد مصباح نے بہت اچھا کام کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں انہیں سپورٹ کی ضرورت ہے۔ تینوں طرز کی کرکٹ میں الگ ٹیموں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الوقت یہ صرف تجاویز ہیں اور ابھی تک ان پر پی سی بی نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، اس لیے مصباح الحق کو فوری طور پر نہیں ہٹایا جائے گا۔ اس امر کا حتمی فیصلہ بورڈ کی تمام کمیٹیوں کی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ اتنے اہم فیصلے جلدی میں نہیں کیے جاتے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ہوگا۔
ذکا اشرف کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ نگار رمیز راجہ بھی مصباح الحق کو ہٹانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتے
اپنی قیادت میں پاکستان کو 15 ٹیسٹ میں 9 فتوحات سے ہمکنار کرنے والے مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے 19 میں سے 14 ایک روزہ جیتے ہیں اور صرف پانچ میں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے، جن میں سے چار مقابلے انگلستان کے خلاف حالیہ سیریز میں کھیلے گئے۔ جبکہ اسی دورے میں عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف پاکستان نے 3-0 سے ٹیسٹ سیریز بھی جیتی ہے۔ اس ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ بھی مصباح کو ہٹانے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔ ان کے علاوہ مصباح کی کپتانی میں پاکستان نے 8 ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں جن میں سے صرف دو ہی ہارے ہیں اور وہ بھی ابھی حالیہ سیریز میں۔
سال 2011ء میں مستقل کامیابیاں سمیٹنے کے باعث صرف ایک سیریز میں ناکامی کے باعث مصباح الحق کو ‘دودھ میں مکھی کی طرح نکالنے’ کا قدم اٹھا کر بورڈ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہتا اور اس لحاظ سے یہ بہت احسن قدم بھی ہے۔ لیکن اس سے مصباح پر دہری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ آنے والے مقابلوں میں پاکستان کو فتوحات سے ہمکنار کر کے خود پر ہونے والی تنقید کو غلط ثابت کریں۔
ذکا اشرف کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ نگار رمیز راجہ بھی مصباح الحق کو ہٹانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ صرف کپتان بدلنے سے پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں درست نہیں ہوں گی اس کے لیے بحیثیت مجموعی ٹیم میں بہتری لانےکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں استحکام آیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیم میں کچھ نئے و باصلاحیت کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے۔
رمیز راجہ نے کہا کہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کی وجہ دراصل ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کے بعد ٹیم سے پیدا ہونے والی توقعات تھیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ٹیسٹ مقابلوں سمیت پوری سیریز میں بلے بازوں کی ناکامی کا شکار رہا، ٹیسٹ میں تو یہ باؤلرز کی اچھی کارکردگی میں چھپ گئی لیکن ایک روزہ و ٹی ٹوئنٹی میں یہ خامی کھل کر سامنے آ گئی۔ رمیز راجہ نے کہا کہ بلے بازی کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ اور کھلاڑیوں کا مکمل فٹ ہونا بھی ٹیم کے اہم ترین مسئلے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کو اگلے ماہ ایشیا کپ کھیلنا ہے، جہاں اس کا مقابلہ بھارت اور سری لنکا جیسی مضبوط ٹیموں سے بھی ہوگا۔ ٹورنامنٹ کے لیے بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان اپنے دستے کا اعلان کرنے والا ہے۔
ایشیا کپ میں اعزاز کے دفاع کے لیے بھارت نے اپنے دستے کا اعلان کر دیا ہے جس سے وریندر سہواگ ‘آرام’ کے بہانے سے باہر کر دیے گئے ہیں۔
11 سے 22 مارچ تک بنگلہ دیش میں ہونے والے اس براعظمی اعزاز کے لیے اعلان کردہ بھارتی دستے کی قیادت بدستور مہندر سنگھ دھونی کے پاس رہے گی اور یوں سلیکشن کمیٹی کے تازہ اعلان نے دھونی کے حوالے سے اُڑنے تمام تر افواہوں پر پانی پھیر دیا ہے جبکہ حیران کن طور پر نائب کپتان کے فرائض ویراٹ کوہلی کو سونپ دیے گئے ہیں جو پہلے گوتم گمبھیر کے پاس تھے۔
سہواگ کو ٹیم فزیو کے مشورے کے باعث آرام کا موقع دیا گیا ہے، باہر نہیں نکالا گیا: کرش سری کانتھ (تصویر: AP)
بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ سہواگ کو باہر نکالا گیا ہے لیکن اُن کی طرح ناقص فارم سے گزرنے والے سچن رمیش تنڈولکر کو ٹیم میں برقرار رکھا گیا ہے جو اس وقت 100 ویں بین الاقوامی سنچری کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ گزشتہ سال عالمی کپ جیتنے کے بعد سے وہ منتخب ایک روزہ مقابلے ہی کھیل رہے ہیں اور آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ بینک سیریز کی سات اننگز میں بھی صرف 143 رنز ہی بنا پائے ہیں۔ چیئرمین سلیکٹرز کرش سری کانتھ کا بھی کہنا ہے کہ ”کسی کو ٹیم سے خارج نہیں کیا گیا ٹیم فزیو کے مشورے کے عین مطابق سہواگ، ظہیر خان اور اُمیش یادیو کو آرام دیا گیا ہے۔“ آل راؤنڈر یوسف پٹھان اور تیز گیند باز اشوک ڈِنڈا کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اشوک ڈنڈا کو رنجی ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کے باعث ایک اور موقع دیا گیا ہے۔ انہوں نے آخری مرتبہ ایشیا کپ 2010ء میں ملک کی نمائندگی کی تھی۔
گھٹنے کی تکلیف سے صحت یابی پانے والے یوسف پٹھان دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد پہلی بار بھارت کی نمائندگی کر سکتے ہیں تاہم آل راؤنڈر کی جگہ پانے کےلیے ان کا مقابلہ رویندر جاڈیجا سے ہے، جنہوں نے انڈین پریمیئر لیگ کے حالیہ سیزن کے لیے 2 ملین ڈالرز میں فروخت ہونے کے باعث کافی شہرت کمائی ہے، لیکن اُن کی حالیہ کارکردگی اس قابل نہیں ہے، پھر بھی یہ دیکھنا دلچسپی سےخالی نہ ہوگا کہ ان دونوں میں سے کون حتمی الیون میں جگہ پاتا ہے۔
اگر کوئی غریب جرم کرے تو اس کو جلد سزا دلوانے کیلیے حکومت اس کا کیس دہشت گردی کی عدالت میں لے جاتی ہے چاہے اس کے جرم کا تعلق دہشت گردی سے ہو یا نہ ہو۔ مگر امیر کے جرم پر پولیس بھی ایکشن نہیں لیتی اور سپریم کوٹ کو سوموٹو ایکشن لینا پڑتا ہے وہ وبھی میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد۔
ضمنی انتخابات میں پی پی پی کی امیدوار وحید شاہ نے انتخابی عملے کی ایک خاتون پر تشدد کیا اور سارا منظر ویڈیو کیمرے پر ریکارڈ ہو گیا۔ اس ظلم کا نہ پولیس نے نوٹس لیا اور نہ ہی عوام میں سے کوئی بولا کیونکہ وحیدہ شاہ موجودہ حکومت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ وہی عوام ہے جو چور کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر وہیں سزا دے دیتی ہے مگر امیر کے آگے بھیگی بلی بن جاتی ہے اور اپنے لوگوں پر ظلم ہوتا بے بسی سے دیکھتی رہتی ہے۔
قانون کے مطابق سرکاری عملے کے کام میں رکاوٹ پر کم از کم ایک سال کی سزا ہوتی ہے۔ امید ہے کسی کو تھپڑ مارنے پر بھی قانون میں ضرور سزا ہو گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ ہنگامی بنیادوں پر اس مقدمے پر ویسے ہی ایکشن لے گی جس طرح اس نے سیالکوٹ میں عوام کے ہاتھوں دو لڑکوں کے مارے جانے کا ایکشن لیا تھا اور دہشت گردی کی عدالت نے مجرموں کو ایک سال کے اندر سزا دے دی تھی۔
یہ مقدمہ سیدھا سادہ ہے اور ویڈیو کی موجودگی میں عدالت کو فیصلہ کرنے میں ایک دن سے زیادہ نہیں لگانا چاہیے۔ مگر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ ہمارا قانون اس مقدمے کو لٹکانے میں ایسی مدد کرے گا کہ چند دن بعد لوگ اس حادثے کو بھول جائیں گے اور پولیس دونوں فریقین میں صلح کرا کے مقدمہ خارج کر دے گی۔
6 ستمبر کی شام ہونے کو تھی ۔ عائشہ کا خاوند احمد ابھی دفتر سے واپس نہيں آيا تھا ۔ شادی دونوں کی پسند سے ہوئی تھی ليکن شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی حالات بدل گئے ۔ اب کوئی دن نہ جاتا جب ان ميں تُو تکرار نہ ہوتی ہو ۔ عائشہ سوچ رہی تھی کہ “احمد پہلے تو اُس کا بہت خيال رکھتا تھا ليکن اب چھ سات بجے دفتر سے لوٹتا ہے ۔ اُسے مجھ سے محبت نہيں رہی”
عائشہ اسی سوچ ميں گُم تھی ۔ 5 بجے تھے کہ باہر دروازے کی گھنٹی بجی ۔ عائشہ بھاگی ہوئی گئی ۔ دروازے پر احمد آج خلافِ معمول دفتر سے وقت پر لوٹ آيا تھا ۔ احمد کے ہاتھ ميں گلدستہ تھا اور وہ مسکرا رہا تھا ۔ عائشہ کو يوں محسوس ہوا کہ خواب ديکھ رہی ہے ۔ وہ دونوں اندر آئے ہی تھے کہ ٹيليفون کی گھنٹی بجی ۔ عائشہ بادلِ نخواستہ دوسرے کمرے ميں گئی ۔ ٹيلفون کا چَونگا [Receiver] اُٹھايا تو آواز آئی
“محترمہ ۔ ميں پوليس اسٹيشن سے بول رہا ہوں ۔ کيا يہ نمبر احمد ملک کا ہے ؟”
عائشہ کچھ پريشان ہو کر ” ہاں ۔ کيا؟”
” ايک شخص ٹريفک حادثہ ميں ہلاک ہو گيا ہے ۔ يہ نمبر اُس کے بٹوہ ميں سے ملا ہے ۔ آپ آ کر اُس کی شناخت کر ليں”
عائشہ ” کے يا ا ا ا ا ا ؟ مگر احمد صاحب تو ابھی ميرے پاس تھے ”
” مجھے افسوس ہے محترمہ ليکن يہ حقيقت ہے کہ بعد دوپہر 3 بجے ايک شخص بس پر چڑھنے کی کوشش ميں گر کر ہلاک ہو گيا ۔ ايک بٹوہ اُس کی جيب سے ملا جس ميں سے آپ کا يہ نمبر ملا”
عائشہ کا سر چکرانے لگا ۔ وہ اپنے دِل سے پوچھنے لگی ” کيا وہ ميرا وہم تھا ؟ وہ احمد نہيں تھا ؟”
عائشہ اُس کمرے کی طرف بھاگی جہاں احمد کو چھوڑ کر آئی تھی ۔ احمد کو وہاں نہ پا کر اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھيرا آ گيا اور وہ چکرا کر گر گئی
احمد جو باورچی خانہ ميں پانی پينے گيا تھا دھڑام کی آواز سْن کر بھاگا آيا ۔ بيوی کو اُٹھا کر بستر پر ڈالا اور اُس کے چہرے پر پانی کا چھينٹا ديا ۔ عائشہ نے آنکھيں کھوليں اور احمد کی طرف بِٹر بِٹر ديکھنے لگی
احمد نے مُسکرا کر کہا ” کيا ہوا ؟ کون تھا ٹيليفون پر ؟ کيا کہا تھا اُس نے ؟”
عائشہ نے اُسے بتايا تو احمد بولا ” مجھے معاف کر دو ۔ ميں تمہيں بتانے ہی والا تھا کہ آج ميں دفتر سے کسی کام کيلئے گيا تو کسی نے ميرا بٹوہ نکال ليا تھا”
اِس واقعہ نے عائشہ کو جھنجوڑ کے رکھ ديا ۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ احمد سے اپنی محبت کو حقيقی دنيا سے بہت دُور لے گئی تھی ۔ اُس نے پہلی بار سوچا کہ احمد دفتر ميں محنت اور زيادہ وقت اُسی کی خاطر لگاتا ہے ۔ دونوں نے آپس ميں دُکھ سُکھ پھرولے ۔ احمد نے بھی وعدہ کيا کہ آئندہ وہ دفتر سے حتٰی المقدور جلدی واپس آنے کی کوشش کيا کرے گا يا کم از کم چہرے پر تھکاوٹ کی بجائے مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرے گا
مندرجہ ذیل عنوان پر کلک کر کے اس سلسلے کا ایک اور مضمون پڑھیئے
” رشتہ ازدواج ”
جو پيدا ہوا ہے اُس نے مرنا بھی ہے ليکن جب تک زندہ ہيں کيوں نا ايک دوسرے کی مجبوریوں کا احساس کيا جائے اور زندگی پيار محبت سے گذاری جائے
انگلستان نے گزشتہ سال ہوم گراؤنڈ پر چند تاریخی ٹیسٹ سیریز جیت کر عالمی نمبر ایک پوزیشن تو حاصل کر لی لیکن اس کا اصل امتحان رواں سال شروع ہوا جب اسے پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلنا پڑی اور پہلے ہی پرچے میں وہ بری طرح ناکام ہوا اور کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہوا۔ اب اس کی دوسری، اور زیادہ کڑی، آزمائش کا دور شروع ہو رہا ہے یعنی کہ دورۂ سری لنکا۔ جس کے لیے انگلستان نے آج اپنے 16 رکنی ٹیسٹ دستے کا اعلان کر دیا ہے۔
مرد بحران سمجھے جانے والے ایون مورگن ٹیم میں واپسی کے بعد سے کوئی نمایاں کارکردگی پیش نہیں کر سکے
اعلان کردہ اسکواڈ میں توقعات کے عین مطابق ایون مورگن شامل نہیں ہیں۔ پاکستان کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے تین مقابلوں میں محض 82 رنز بنانے والے مورگن محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی مسلسل ناکامیوں کا شکار ہیں اور ہر میچ میں انہیں میدان سے سر جھکائے پلٹتے ہی دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انگلستان نے انہیں کم از کم طویل طرز کی کرکٹ سے باہر بٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹیسٹ اکھاڑے میں اپنی تمام تر حالیہ ناکامیوں کے باوجود سری لنکا اپنی سرزمین پر بہت سخت حریف ثابت ہوگا خصوصاً کپتان کی تبدیلی کے بعد سری لنکا ایک مختلف روپ میں نظر آ رہا ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ ایک بہت دلچسپ سیریز دیکھنے کو ملے گی۔
انگلستان نے اعلان کردہ 16 رکنی دستے میں آف اسپنر جیمز ٹریڈویل اور آل راؤنڈر سمیت پٹیل کو بھی شامل کیا ہے۔ ٹریڈویل 2010ء میں ایک ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں جبکہ سمیت ابھی تک ٹیسٹ سطح پر انگلستان کی نمائندگی سے محروم رہے ہیں لیکن پاکستان کے خلاف محدود اوورز کی حالیہ سیریز میں اچھی کارکردگی انہیں ٹیسٹ دستے میں مقام ملا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گو کہ دستہ 10 مارچ کو سری لنکا روانہ ہوگا لیکن چند کھلاڑی سری لنکا کی کنڈیشنز سے مانوسیت حاصل کرنے اور ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں کے لیے پہلے ہی وہاں جائیں گے جہاں بیٹنگ کوچ گراہم گوچ تربیتی کیمپ کی نگرانی کریں گے جس میں اینڈریو اسٹراس، این بیل، اسٹیون ڈیویس، مونٹی پنیسر، سمیت پٹیل، میٹ پرائیر اور جیمز ٹریڈویل شامل ہوں گے۔
انگلستان کے قومی سلیکٹر جیوف ملر کا کہنا ہے کہ ہم نے دستے کا انتخاب سری لنکا میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ ایک مشکل سیریز ہوگی لیکن اس لحاظ سے دلچسپ بھی ہوگی کہ کھلاڑیوں کو پاکستان کے خلاف ایک مایوس کن سیریز کے بعد اپنی صلاحیتوں کے اظہار ایک اور موقع ملے گا اور ساتھ ساتھ وہ برصغیر میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے درکار مہارت میں بھی اضافہ کر پائیں گے۔
دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ 26 مارچ کو گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 3 اپریل سے کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
انگلستان کا اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا (بلحاظ حروف تہجی):
بھارت نے ناممکن کو ممکن تو بنا دیا لیکن اس کے نصیب کی کنجیاں آسٹریلیا کے ہاتھوں میں آ چکی ہیں کہ وہ سہ فریقی کامن ویلتھ بینک سیریز کے فائنل مرحلے سے قبل آخری مقابلے میں سری لنکا کو شکست دے تاکہ بھارت ’بیسٹ آف تھری‘ فائنل میں اس کے مدمقابل آ جائے۔ ہوبارٹ میں کھیلا گیا بھارت کا آخری مقابلہ باؤلرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا جس میں اس میچ میں 641 رنز بنے اور صرف 7 وکٹیں گریں جو آسٹریلیا کے میدانوں میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کیونکہ ’ڈاؤن انڈر‘ کی کنڈیشنز کو عموماً بلے بازوں کے لیے مشکل تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ سبز وکٹوں کی وجہ سے ہو یا طویل باؤنڈریز کی بدولت۔ لیکن بھارت نے، جسے 321 رنز کا ہمالیہ جیسا ہدف 40 اوورز میں مکمل کرنا تھا تاکہ وہ بونس پوائنٹ کے ساتھ فتح حاصل کر پائے اور اپنے پوائنٹس سری لنکا کے برابر کر لے، اپنی حالیہ تمام تر کارکردگی کو پس پشت رکھتے ہوئے سری لنکا کو محض 36.4 اوورز میں زیر کر لیا اور بونس پوائنٹ کے ساتھ ایک قیمتی فتح حاصل کر کے سیریز میں اپنی امیدوں کے چراغوں کو بجھنے نہیں دیا۔ ویراٹ کوہلی کے بلّے سے اگلنے والے شعلوں نے لاستھ مالنگا سمیت پوری سری لنکن باؤلنگ لائن اپ کو جلا کر راکھ کردیا، جنہوں نے صرف 86 گیندوں پر 133 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں 16 چوکے اور 2 بلند و بالا چھکے بھی شامل تھے۔
ویراٹ کوہلی کیریئر کی بہترین اننگز کھیلنے کے بعد جشن مناتے ہوئے (تصویر: Getty Images)
یہ کوہلی کے ایک روزہ کیریئر کی 9 ویں سنچری تھی اور صرف رنز اعتبار سے ہی نہیں بلکہ کئی حوالوں سے اُن کے کیریئر کی سب سے بہترین اننگز تھی۔ گو کہ بھارت کو ایسی شاندار فارم میں دیکھنے کی خواہش کئی ماہ سے تھی، تاکہ وہ بیرون ملک سرزمین پرفتوحات کی راہ پر گامزن ہو سکے، بالآخر وہ فارم میں نظر تو آیا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ تاخیر ہو چکی ہے کیونکہ اس یادگار فتح کے باوجود اسے اگلے میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سری لنکا کی شکست کا انتظار کرنا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ اگر سری لنکا جیت گیا، یا مقابلہ ٹائی ہو گیا یا بارش کے باعث ہو ہی نہ سکا تو بھارت کو واپسی کی تیاری کرنا پڑے گی اور یہی بات بھارت کی یادگار فتح کی خوشی کے مزے کو کرکرا کر رہی ہے۔
بہرحال، کوہلی کی اس شعلہ فشاں اننگز نے سری لنکا کے دو بلے بازوں کمار سنگاکارا اور تلکارتنے دلشان کی زبردست بلے بازی کو گہنا دیا۔ دلشان نے 165 گیندوں پر 160 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ سنگاکارا 87 گیندوں پر 105 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن ان کی تہرے ہندسے کی اننگز کسی کو یاد نہیں رہے کیونکہ یاد ہمیشہ فتح کے ساتھ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے دسمبر 2009ء میں بھارت کے خلاف ہی کھیلے گئے ایک روزہ مقابلے میں بھی دلشان نے 160 رنز بنائے تھے لیکن سری لنکا سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 رنز سے میچ ہار گیا کیونکہ اسے 415 رنز کا ہدف حاصل کرنا تھا اور آج دوبارہ اتنی عمدہ بیٹنگ کے باوجود ان کی ٹیم شکست خوردہ کہلائی۔
اصل میں ایک بہت اچھے ہدف کے دفاع میں سری لنکن گیند بازوں نے بہت ہی ناقص باؤلنگ کرائی، انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ بھارت کی حالت ’دیوار سے لگے ہوئے شخص‘ جیسی ہے اور وہ سختی کے ساتھ جوابی حملہ کرے گا لیکن شاید باؤلرز حد سے زیادہ پر اعتماد تھے کہ بھارت 40 اوورز میں اتنا بڑا اسکور نہیں بنا پائے گا لیکن کوہلی نے انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور بھارت کو اپنے ’مرد بحران‘ مہندر سنگھ دھونی کا بھی انتظار نہیں کرنا پڑا اور صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر اس نے یہ ہدف حاصل کر لیا۔
بھارت نے ابتداء ہی سے اپنے ارادوں کو ظاہر کر دیا تھا جب دو ’مردانِ بزرگ‘ وریندر سہواگ اور سچن ٹنڈولکر کریز پر موجود تھے جنہوں نے ابتدائی 6 اوورز میں 50 رنز سے زیادہ کی شراکت قائم کی لیکن سہواگ کے پویلین لوٹتے ہی سری لنکا مزید مطمئن ہو گیا کہ بھارت کے لیے یہ تعاقب اتنا آسان ثابت نہیں ہوگا۔ انہوں نے 16 گیندوں پر 30 رنز بنائے جبکہ پہلے لازمی پاور پلے کے اختتام سے قبل ہی سچن بھی پویلین سدھار گئے انہوں نے 30 گیندوں پر 39 رنز بنائے اور اب تمام تر ذمہ داری دو انتہائی جارح مزاج کھلاڑیوں گوتم گمبھیر اور ویراٹ کوہلی کے سر پر تھی جنہوں نے دوسری وکٹ پر 18 اوورز میں 115 رنز جوڑے۔ وہ تو بدقسمتی سے گمبھیر آؤٹ ہو گئے ورنہ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ انہی دونوں کا ہدف تک پہنچنے کا ارادہ ہے۔
بہرحال 201 پر 3وکٹیں گر جانے کے بعد بھارتی کپتان دھونی نے خود میدان میں اترنے کے بجائے سریش رینا کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے نہ صرف یہ کہ کوہلی کے کھیلنے کے زیادہ مواقع دیے بلکہ خود بھی موقع ملتے ہی سری لنکن باؤلرز کی ناقص لائن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے محض 55 گیندوں پر 120 رنز کی شراکت داری قائم کی یعنی کہ 13.09 رنز فی اوورز کا زبردست اوسط۔
رینا نے 24 گیندوں پر ایک چھکے اور 3 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بنائے اور کوہلی کا بہت اچھی طرح ساتھ نبھایا جو دوسرے اینڈ سے سری لنکن گیند بازوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا رہے تھے۔ جیسے جیسے ہدف قریب آ رہا تھا کوہلی کی بلے کی رفتار اور شاٹ کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا یہاں تک کہ جب 42 رنز درکار تھے تو انہوں نے مالنگا کو 5 مسلسل گیندوں پر ایک چھکا اور چار چوکے رسید کر کے سری لنکا کی موہوم امیدوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔ ایک روزہ میں دنیا کا بہترین گیند باز تسلیم کیے جانے والے مالنگا کو آخری اوور میں بھی دو چوکے پڑے اور انہوں نے کرائے گئے 7.4 اوورز میں 96 رنز دیے جو فی اوور 12.52 رنز کا اوسط بنتا ہے۔
قبل ازیں سری لنکا نے تلکارتنے دلشان اور کمار سنگاکارا کے درمیان دوسری وکٹ پر 200 رنز کی شراکت کی بدولت اسکور بورڈ پر بہت اچھا مجموعہ اکٹھا کیا جو بھارت کے بلے بازوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے تقریباً ناقابل عبور سمجھا جا سکتا تھا اور لگتا ہے سری لنکا نے بھی ایسا ہی سمجھا اور یہی اطمینان انہیں لے ڈوبا۔ بہرحال دلشان کی 160 رنز کی اننگز میں 11 چوکے اور 3 چھکے جبکہ سنگاکارا کی 105 رنز کی اننگز میں 2 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔ سری لنکا کے لیے ان دونوں کی بلے بازی ہی مثبت پہلو رہی کیونکہ سنگاکارا کافی دنوں سے فارم میں نہیں دکھائی دے رہے تھے لیکن اس سنچری کے ساتھ ہی ٹیم کو امید ہو چلی ہے کہ آئندہ مقابلوں میں وہ مڈل آرڈر کا اہم ستون ثابت ہوں گے۔
کوہلی کو اس تاریخی اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جنہوں نے بھارت کی تاریخ کی چوتھی تیز ترین سنچری بنائی۔
یہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں یہ محض دوسرا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے 300 سے زیادہ رنز کا ہدف 40 اوورز سے بھی پہلے حاصل کر لیا ہو اور اس سے پہلے یہ کارنامہ سری لنکا نے ہی انجام دیا تھا جس نے 2006ء کے تاریخی دورۂ انگلستان میں اوپل تھارنگا اور سنتھ جے سوریا کی 286 رنز کی شراکت کے بل بوتے پر 37.3 اوورز میں 322 رنز کا ہدف حاصل کیا اور سیریز 5-0 سے اپنے نام کی تھی لیکن آج سری لنکا کو وہی ذلت برداشت کرنا پڑی جو 6 سال قبل انگلستان کے نصیب میں لکھی تھی۔
بہرحال، اب بھارت کی نظریں 2 مارچ کو ملبورن میں ہونے والے آسٹریلیا-سری لنکا مقابلے پر مرکوز ہوں گی جس کے بعد تین فائنل کھیلے جائیں گے جس میں آسٹریلیا کا مقابلہ ان دونوں میں سے کسی ایک ٹیم سے ہوگا۔
بھارت بمقابلہ سری لنکا
کامن ویلتھ بینک سیریز گیارہواں ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ
آسٹریلیا نے سہ فریقی کامن ویلتھ بینک سیریز کے بقیہ مقابلوں کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے اور راین ہیرس کی جگہ جیمز پیٹن سن کو طلب کیا گیا ہے جو پیر کی تکلیف کے باعث گزشتہ ماہ سے ملک کی نمائندگی سے محروم تھے۔
پیٹن سن نے پیر زخمی ہونے سے قبل آسٹریلیا کے لیے یادگار کارکردگی دکھائی ہے (تصویر: AFP)
ٹورنامنٹ میں اب تک 19 پوائنٹس حاصل کر کے میزبان آسٹریلیا فائنل میں اپنی نشست پکی کر چکا ہے اور لیکن ’بیسٹ آف تھری‘ فائنل مقابلوں سے قبل اسے ایک مقابلہ سری لنکا کے خلاف کھیلنا ہے جس سے قبل ٹیم میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ راین ہیرس جو بھرپور روانی حاصل نہ کر پائے تھے کم از کم محدود اوورز کے دستے میں اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ پائے تاہم آسٹریلیا کی سلیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ماہِ اپریل میں دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے منصوبوں میں انہیں شاملِ حال رکھے گی۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پیٹن سن کو آسٹریلیا کی فاسٹ باؤلنگ کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے اور ان کی جارح مزاجی فائنل مقابلوں میں میزبان ٹیم کے کام آئے گی۔
علاوہ ازیں فائنل سے قبل سری لنکا کے خلاف آخری مقابلے کے لیے کپتان مائیکل کلارک کو بھی آرام کا موقع دیا گیا ہے جو چند دنوں سے کمر کی تکلیف کا شکار ہیں اور بھارت کے خلاف آخری مقابلے میں نہیں کھیل پائے تھے اور شین واٹسن نے اُن کی جگہ آسٹریلیا کی قیادت کی تھی اور سری لنکا کے خلاف آخری مقابلے میں بھی وہی یہ فریضہ انجام دیں گے۔ جبکہ کلارک اتوار کو برسبین میں ہونے والے پہلے فائنل میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔
اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پرمشتمل ہے (بلحاظ حروفِ تہجی):
پنڈلی کی انجری سے صحت یابی کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان روز ٹیلر جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ایک مرتبہ پھر قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
روز ٹیلر زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پنڈلی کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے (تصویر: Getty Images)
گزشتہ ماہ زمبابوے کے خلاف واحد ٹیسٹ میں ہونے والی تکلیف کے باعث وہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے نہیں کھیل پائے تھے اور پھر جنوبی افریقہ کے خلاف محدود اوورز کے مرحلے میں بھی ابھی تک ملک کی نمائندگی نہیں کر پائے۔ ان کی جگہ برینڈن میک کولم نیوزی لینڈ کی قیادت کر رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پہلے ٹیسٹ تک فرائض واپس ٹیلر کو سونپ دیں گے۔
نیوزی لینڈ اس وقت جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کھیل رہا ہے جہاں وہ پہلے مقابلے میں شکست کھا چکا ہے اور اب دو مقابلے باقی رہ گئے ہیں جس کے بعد 7 مارچ سے ڈنیڈن میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے ٹیم فزیو ڈین کلوز کا کہنا ہے کہ ہم روز کی بحالی صحت کی رفتار پر خوش ہیں اور وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ مرحلے کے آغاز تک مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔
روز ٹیلر گزشتہ سال قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے ملک کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں اور ان کی شمولیت جنوبی افریقہ کے خلاف اہم سیریز سے قبل میزبان ٹیم کے لیے حوصلہ افزا امر ہوگی۔ تاہم اس خوشخبری کے ساتھ نیوزی لینڈ کے لیے ایک بری خبر بھی ہے کہ ان کے دوسرے اہم ترین بلے باز ڈین براؤنلی اس اہم سیریز سے قبل فٹ نہیں ہو پائیں گے۔ انہیں زمبابوے کے خلاف کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ کے دوران بائیں ہاتھ کی انگلی پر چوٹ لگی تھی۔
ٹیسٹ درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر فائز جنوبی افریقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کو دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست دے، اس صورت میں وہ انگلستان کو پچھاڑ کر عالمی نمبر ایک بن جائے گا۔ انگلستان کو پاکستان کے خلاف کھیلی گئی حالیہ ٹیسٹ سیریز میں 3-0 کی بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور یوں پاکستان سے جنوبی افریقہ کے لیے سرفہرست پوزیشن پر پہنچنے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ کے لیے ’لوہے کا چنا‘ ثابت ہوتا ہے یا ’تر لقمہ‘ اور اس کا زیادہ تر انحصار روز ٹیلر کے طرزِ قیادت پر ہوگا۔
اردو بلاگز نیٹ ورک کی دیگر سائٹس