December, 2011 میں بلاگرز نے کیا لکھا

دوست - سالنامہ

Dec
31

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی “ان سوشل نیس”، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری “کھچ”۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔

Comments Off

دوست - سالنامہ

Dec
31

تو بات یہاں پہنچی کہ نیا سال چڑھ آیا۔ اتنا چڑھا آیا کہ سر پر چڑھ آیا لگتا ہے۔ اور ہم اس نئے سال میں ڈرے ڈرے بیٹھے ہیں کہ اس سے نیا سال نصیب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے نئے سال کی فکر کی بجائے ذرا پرانے سال پر نظر ڈالتے چلیں۔ چونکہ یہ ہمارے بلاگ کا سالنامہ ہے، جیسے سیارہ ڈائجسٹ یا حکایت یا شکایت یا ولایت ڈائجسٹ وغیرہم سالنامہ نکالا کرتے ہیں۔ تو ہم نے بھی سوچا کہ سالنامہ نکالا جائے، ویسے بھی یہ روایت سی ہو گئی ہے جملہ اردو بلاگران میں کہ کچھ لکھا جائے۔ تو سائیں ہم لکھ رہے ہیں، اور جیسا کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ تو فالتو میں پڑھنے کی بجائے کوئی کام کی بات پڑھ لیں۔
کام کی بات سے یاد آیا کہ اس، معذرت کے ساتھ پچھلے سال ہمیں اکثر ایسا لگا کہ ہم کسی کام کے نہیں ہیں۔ ہم کئی جگہ انٹرویو سے فیل ہوئے۔ آخری جگہ سے انٹرویو میں جو فیل ہوئے تو ہم نے انٹرنیٹ پے بھی خاصا اُدھم مچایا، اور پھر کورٹ بھی گئے۔ وہاں سے کیس جیت کر بھی ہم نے کہا لعنت بھیجو جی، ایویں متھا لگانے کا کیا فائدہ، مزہ تو چکھا دیا۔ خیر مزہ چکھایا یا نہیں، ہم گھر بیٹھے رہے۔ تو اس سال ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ ہم کسی کام کے نہیں۔
خیر یہ بیان بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ اس، سوری پچھلے سال ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ کچھ ایسے احباب ملے جن سے مستقبل میں بہت سی رہنمائی کی توقع ہے۔ مثلاً ایک کامیابی تو یہ ملی کہ ہم گلوبل سائنس میں لکھنے لگ گئے۔ پہلے ہم رک رک کر لکھتے تھے، لیکن اب مستقل اور رواں ہو گئے ہیں۔ اس سے ذرا خود کو لکھاری سا محسوس کرنے کو دل کرنے لگ گیا۔ ایک اور سلسلہ یہ ہوا کہ ہم اسکول کی نوکری چھوڑ چھاڑ مکمل طور پر ترجمے پر آگئے۔ اور ترجمے پر ہی چلے جاتے ہیں، جیسے گاڑیاں سی این جی پر چلی جاتی ہیں۔ اللہ کا کرم ہے الحمد اللہ، وہ دے رہا ہے۔ دئیے جا رہا ہے اور ہم لیے جا رہے ہیں۔
اسی سال ہمیں کچھ احباب سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ پہلے تو جناب عزت مآب (مجھے پتا ہے انہیں یہ القابات ہضم نہیں ہوں گے، عادت نہیں ہے) جعفر حسین مدظلہ ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔ ہم نے بیٹھ کر ڈھیروں ساری باتیں کیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ جعفر پائین ہماری فیصل آباد گالیاں بھی مسکرا کر پی گئے اگرچہ اب انہیں فیصل آباد کی عادت نہیں رہی، صرف بلاگ پر دل پشوری کر لیتے ہیں۔ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر انہیں فیصل آباد کا سواد آیا ہو گا۔ یہ ملاقات اصل میں فیصل آباد بلاگرز ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی میٹنگز کے سلسلے کی پہلی کڑی بھی تھی۔ امید ہے کہ اگلے سال تک اردو بلاگرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کا قیام عمل میں آ جائے گا جس کے صدر کے لیے ہم نے اپنا نام پیش کر دیا ہے، جنرل سیکرٹری کے لیے جناب جعفر حسین سکنہ فیصل آباد مقیم متحدہ عرب امارات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔ باقی عہدے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فیصل آبادی بلاگروں اور فیس بُکیوں کو الاٹے جا سکتے ہیں۔ اپنا نام آج ہی لکھوائیں۔
اس کے علاوہ دسمبر میں ہمیں جناب ڈاکٹر تفسیر احمد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اتنی دیر تک ہمیں برداشت کیا، سموسے کھلائے اور اسٹوڈنٹ بریانی سے تواضع کی۔ اگرچہ اس کا بل مصطفی بھائی نے دیا تھا، اور ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔ ان احباب سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ پاء جی کتھے کھلوتے او، دنیا چن تے پہنچ گئی اے۔ تو پھر ہم نے موجودہ سال سے رمکے رمکے چاند کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے، دیکھیں ہمارا چن کم تک ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں چند سے مراد ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جائے فی الحال۔ اس کے علاوہ کوئی چن دستیاب نہیں ہے۔
مدیر گلوبل سائنس جناب علیم احمد سے ہماری یاد اللہ ہو گئی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے، اور آباد رکھے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ ہوں گے تو ہماری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔ اور ساتھ ہمیں لکھنے لکھانے میں رہنمائی بھی ملتی رہے گی۔
پچھلے سال نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اور بہت کچھ سمجھایا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ چناچہ ہم آئندہ سال اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اپنے ویک پوائنٹس کو دور کریں گے۔ خاص طور پر ہماری ازلی “ان سوشل نیس”، اور دس بائی دس کے کمرے میں ساری عمر گزار دینے کی فطری “کھچ”۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو ہمیں بیرون شہر بلکہ بیرون ملک دھکے کھانے پڑ سکتے ہیں، جس کی تیاری ابھی سے ضروری ہے۔
اور آخر میں ہمارا اس سال کا سب سے اہم گول یہ ہے کہ ہم نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے کے دکھانا ہے، باہر لے کے دکھانا ہے اور مفتو مفت لے کے دکھانا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے آپ کو بطور مترجم مزید سیٹل کرنا ہے، اور بطور لکھاری ذرا رگڑائی شگڑائی کرانی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی پر ہی لکھتے ہیں، لیکن لکھتے تو ہیں۔
اور سب سے آخر میں دعا کہ اللہ سائیں ہمارے خاندان خصوصاً والدین کو صحت و تندرستی عطاء کرے۔ رزق روزی میں فراخی اور برکت عطا ہو، اور دینے والا ہاتھ کھلا رکھنے کی توفیق ہو۔ اور شکر کی توفیق ہو۔
اور آخر میں ایک دعا ایک پرانے سجن کے لیے۔ اللہ اسے خوش رکھے، ہمارے اندر ایک گوشہ اسی کے دم سے آباد ہے۔ اور جب ہم تھک ٹُٹ کے، دنیا اور دنیا والوں سے اک کے، اکیلے میں اپنے آپ سے ملتے ہیں، تو اسی گوشے میں، اُس کے روبرو ہماری اپنے آپ سے اور اس سے ملاقات ہمیں سارے غم بھُلا دیتی ہے۔
اور سجنو تے بیلیو نیا سال مبارک، اسلامی سال تو ایک ماہ سے بھی اوپر کا ہو چکا ہے، وہ بھی مبارک۔ اللہ سائیں اس ملک پر یہ سال مبارک کر دے۔ آمین۔

Comments Off

محمد یاسر علی - 2012 مبارک ہو

Dec
31

ہماری جانب سے سب کو نیا سال مبارک ہو اللہ پاک سے ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک 2012 کوساری دنیا کے لیے محبت ، امن اور مساوات کا سال بنا دے۔آمین

نیا سال مبارک 

Happy New…



مکمل تحریر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے برائے مہربانی محمد یاسر علی کی بیاض کا وزٹ کریں ۔ شکریہ

Comments Off

پروفیسر محمد عقیل - دسمبر 2012 اور دنیا کا اختتام

Dec
31

پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بھر کے میڈیا اور انٹرنیٹ پر دسمبر 2012 کا بہت زیادہ چرچاہے ۔ اس کا سبب وہ پیش گوئی ہے جس کے مطابق دسمبر 2012 کی 21 تاریخ کو ہماری دنیا ایک زبردست تباہی کی زد میں آئے گی جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اہل زمین کی زندگی ختم ہوجائے گی۔ اس پیش گوئی کی اساسات کیا ہیں یہ اپنی جگہ خود ایک تفصیلی موضوع ہے ، تاہم میں اختصار سے اس کا ذکر کر دیتا ہوں ۔ اس کی پہلی بنیاد قدیم امریکی تہذیب مایا کا وہ کیلنڈر ہے جو اس تاریخ یعنی 21 دسمبر 2012 کو ختم ہوجاتا ہے ۔ یہ تہذیب یورپین اقوام کے امریکہ آنے سے قبل وسطی امریکہ کی غالب تہذیب تھی جس کا دور عروج 250 عیسوی سے 900 عیسوی کے زمانے کا ہے ۔ یہ قوم اپنے کیلنڈر کی بنیاد پر فلکیاتی مظاہر جیسے سور ج یا چاند گرہن وغیرہ کے بارے میں درست پیش گوئیاں کیا کرتی تھی۔

یہی تاریخ چین کے قدیم ترین ٹیکسٹ ایچنگ (I Ching) کے حوالے سے بھی بیان کی جاتی ہے جو مستقبل کا حال بتانے کے لیے زمانۂ قدیم سے چین میں استعمال ہوتا ہے ۔ ٹیرنس مکینا (Terence McKenna) نامی ایک امریکی نے ایچنگ کو بنیاد بنا کر ایک پیچیدہ حساب کتاب سے یہ ثابت کیا کہ 21 دسمبر 2012 کو یہ دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی کر رہا ہے ۔ دور جدید میں انٹر نیٹ پر استعمال ہونے والا ایک سافٹ وئیر (Web Bot ) جو اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے پیش گوئیاں کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اس کے مطابق بھی یہی تاریخ دنیا کے اختتام کی تاریخ ہے ۔ یہ سافٹ وئیر پوری دنیا میں لوگ انٹر نیٹ پر جو الفاظ استعمال کر رہے ہوتے ہیں ان کو جمع کر کے ان کا تجزیہ کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر اہم واقعات اور رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے ۔

یہ پیش گوئیاں اپنی اساسات میں کس حد تک مستند ہیں ، اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں انہوں نے غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی ہے ۔ بڑ ے بڑ ے مغربی اخبارات اور چینلز اس ¦�;یش گوئی کو کوریج دے رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ پر اس پس منظر میں باقاعدہ ویب سائٹس اور ڈسکشن گروپ قائم ہیں ۔ اس موضوع پر متعدد کتابیں شائع ہورہی ہیں ۔ معروف ٹی وی چینل ’ہسٹری‘ اور ’ڈسکوری‘ نے اس موضوع پر ڈاکومنٹریز بنائی ہیں ۔ جبکہ حال ہی میں ہالی وڈ میں اس موضوع پر ایک فلم بنائی گئی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ امریکہ میں اس تاریخ پرپیش آنے والی تباہی سے بچنے اور بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ سروائیول (Survival) گروپ قائم ہو چکے ہیں ۔

پیش گوئی غلط سہی مگر۔ ۔ ۔
میں نے اس پیش گوئی کی اساسات کو غور سے دیکھا ہے ۔ اس کی بنیادیں کوئی علمی حقیقت نہیں بلکہ ظن و تخمین اور اوہام پرستی ہیں ۔ میری پختہ رائے یہ ہے کہ 21 دسمبر 2012 کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام تر سنسنی خیزی محض میڈیا کی کرشمہ سازی ہے ۔ سائنسدانوں اور اہل علم کی بھی یہی رائے ہے اور وہ اسے اس مشہورِ عالَم فراڈ یعنی Y2K سے تشبیہ دے رہے ہیں جس کا مشاہدہ دنیا نے سن 2000 کے آغاز پر کیا تھا جس میں برسوں تک یہ سنسنی پھیلائی جاتی رہی کہ 31 دسمبر 1999 کی رات نئے سال کے آغاز کے موقع پر تمام کمپیوٹر فیل ہوجائیں گے اور دنیا بھر کا نظام ناکارہ ہوجائے گا۔

تاہم دنیا کے خاتمے کے تصور کو لوگوں میں جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ دراصل میری آج کی گفتگو کا اصل موضوع ہے ۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دنیا بھر کے انسان ذہناً اس بات کے لیے تیار ہیں کہ یہ دنیا جلد یا بدیر اپنے خاتمے کی طرف بڑ ھ رہی ہے ۔ اس بات کی ہمارے لیے کیا اہمیت ہے ، میں اس بات پر بعد میں گفتگو کروں گا۔ پہلے میں قدرے تفصیل سے یہ بیان کروں گا کہ لوگ اس طرح کیوں سوچ رہے ہیں ۔

قیامت: مذاہب کا بنیادی تصور
آج سے تقریباً چار ہزار برس قبل تمام دنیا میں شرک کا غلبہ ہو چکا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس مشن کے ساتھ مبعوث کیا کہ وہ مڈل ایسٹ کے تمام ممالک میں دعوت حق پہنچائیں گے ۔ ان کی اس دعوت کا جواب سو فیصد نفی میں دیا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ مڈل ایسٹ کا علاقہ جو دنیا کا مرکز ہے ، اسے رہتی دنیا تک حضرت ابراہیم کی اولاد کو دے دیا جائے اور پھر یہ لوگ دنیا کے مرکز میں رہ کر دنیا بھر میں توحید کی منادی کرتے رہیں گے ۔ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے کہ پچھلے چار ہزار برس سے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد اور وابستگان کا انسانیت کے مرکزی دھارے میں اہم ترین کردار رہا ہے ۔ یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کی شکل میں یہی لوگ معاشرتی، معاشی، سیاسی اور نظریاتی حوالے سے پچھلے چار ہزار برسوں میں انسانیت کی امامت کرتے رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی طرح یہود و نصاریٰ بھی اپنی نسبت حضرت ابراہیم ہی کی طرف کرتے ہیں اور اپنی تمام فکری اور عملی گمراہیوں کے باوجود انہی کے عطا کردہ دین حنیف کی بنیادی تعلیمات کو اپنی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔

اس تعلیم میں عقیدۂ آخرت کا وہ تصور بھی شامل ہے جس کے مطابق روز قیامت یہ دنیا ایک عظیم تباہی کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ اس لیے یہ تینوں مذاہب جو اصطلاحاً الہامی مذاہب کہلائے جاتے ہیں دنیا کے خاتمے اور اس کے بعد خیر کے غلبے کا ایک واضح تصور رکھتے ہیں ۔ دنیا کے دیگر مذاہب بھی درحقیقت ایک زمانے میں الہامی مذاہب ہی تھے ، مگر چونکہ ان کے پیغمبروں کی تاریخی حیثیت پر وقت کی گرد پڑ گئی اس لیے انہیں غیر الہامی مذاہب کہا جاتا ہے ۔ لیکن ان کی تعلیمات کا علمی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ بھی دراصل توحید و آخرت کی بنیاد ہی پر کھڑ ے تھے ۔ اسی لیے ان میں بھی اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی، دنیا کے خاتمے ، خیر کے مکمل غلبے کے تصورات، چاہے بگڑ ی ہوئی شکل ہی میں سہی مگر پائے جاتے ہیں ۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا کا خاتمہ دراصل ایک مذہبی تصور ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول عرصے سے انسانیت تک پہنچاتے چلے آ رہے ہیں اور یہی مذہبی تصور 21 دسمبر 2012 کی پیش گوئی کو عمومی توجہ دلانے کا سبب بنا ہے کیونکہ لوگ مذہبی تصورات اور تعلیم کی بنا پر ذہناً دنیا کے خاتمے کے لیے تیار ہیں ۔ میری اس بات کا سب سے بڑ ا ثبوت یہ ہے کہ ویب بوٹ کے جس سافٹ وئیر کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے وہ تمام تر اس بنیاد پر کام کرتا ہے کہ انسانیت مجموعی طور پر کیا سوچ رہی ہے اور اس کی سوچ پر کس چیز کا غلبہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ انسانی شعور کی داخلی کیفیت کا اظہار ہے جس کا کسی خارجی پیش گوئی سے کوئی تعلق نہیں ۔

یہی زمانہ کیوں ؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اسی صدی میں دنیا کے خاتمے کے بارے میں اتنے زیادہ کیوں متفکر ہوئے ہیں ۔ اس سے پہلے اس بڑ ے پیمانے پر اس طرح کیوں نہیں سوچا گیا؟ میرے نزدیک اس کے ایک سے زیادہ اسباب ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارا دور میڈیا کا دور ہے جس نے دھرتی کو گلوبل ویلج بنادیا ہے ۔ اس گلوبل ویلج میں خیالات بڑ ی تیزی سے پھیلتے ہیں ۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ مذہبی لٹریچر میں دنیا کے خاتمے اور پھر ایک نئی دنیا کے آغاز (eschatology) کے حوالے سے جو پیش گوئیاں ملتی ہیں ، ان میں سے کئی ایسی ہیں جو مکمل طور پر درست ثابت ہو چکی ہیں ۔ قرآن مجید میں قبل از قیامت کی جو واحد پیش گوئی کی گئی ہے اور جس کا ذکر دیگر الہامی صحیفوں میں بھی ہے یعنی یاجوج ماجوج کا دنیا پر غلبہ، وہ مکمل طور پر پوری ہو چکی ہے ۔ یاجوج ماجوج حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی نسل کے لوگ ہیں ۔ یافث کے سات بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام ماجوج تھا۔ جبکہ یاجوج اسی کی نسل میں ایک بادشاہ کا نام تھا۔ بعد ازاں انہی دونوں کے نام پر یافث کی تمام اولاد مشہور ہوگئی اور اسی حیثیت میں انجیل میں قرب قیامت کی پیش گوئی کرتے ہوئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الہامی صحیفوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابتدائً یہ لوگ شمال میں آباد تھے اور پھر وہیں سے رفتہ رفتہ دنیا کے تمام کونوں میں پھیل گئے ۔ قرآن مجید نے بھی قیامت سے قبل یاجوج ماجوج کے کھولے جانے اور دنیا پر ان کے غلبے کی پیشگوئی کی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’یہاں تک کہ وہ وقت آجائے ، جب یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں اور وہ ہر بلندی سے پل پڑ یں ، اور قیامت کا شدنی وعدہ قریب آپہنچے تو ناگہاں دیکھیں کہ اِن منکروں کی نگاہیں ٹنگی رہ گئی ہیں ۔ اُس وقت کہیں گے : ہم اِس سے غفلت میں پڑ ے رہے ، بلکہ ہم نے تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا تھا۔‘‘ (الانبیاء 21: 97۔ 96)

جو لوگ تاریخ عالم پر نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ حامی (افریقی) سامی (عربی اور عبرانی) نسل کے بعد اب دنیا کا اقتدار یافث کی اولاد کے ہاتھ میں آ چکا ہے ۔ اس نسل کی تمام اہم شاخیں یعنی ترک، یورپی، روسی، امریکی اور چینی اقوام دنیا کے اقتدار کے مزے لے چکی ہیں یا لے رہی ہیں ۔ قرآن کریم میں بیان کردہ یاجوج ماجوج کا خروج شروع ہو چکا ہے اور بتدریج اپنے عروج کی طرف بڑ ھ رہا ہے ۔

اسی طرح حدیث جبریل جو ذخیرۂ حدیث میں غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے اور جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت جبریل لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے انسانی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس میں بھی قرب قیامت کی جو پیش گوئی کی گئی ہے (’تم (عرب کے ) اِن ننگے پاؤں ، ننگے بدن پھرنے والے کنگال چروا ہوں کو بڑ ی بڑ ی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے دیکھو گے ۔‘مسلم، رقم93)وہ مکمل طور پر پوری ہو چکی ہے ۔ عرب میں پٹرول نکلنے کے بعد یہ سب کچھ ہورہا ہے اور دنیا کی بلند ترین عمارتیں عرب ہی میں بن رہی ہیں ۔ بعض دوسری پیش گوئیاں بھی احادیث میں بیان ہوئی ہیں ، جن کا ظہور ابھی باقی ہے ، لیکن مذکورہ بالا پیش گوئیوں کی تکمیل کے بعد صاف لگتا ہے کہ قیامت کا معاملہ اب سر پر آ گیا ہے ۔

اہل مغرب اور یہود و نصاری کا معاملہ
یہ تو مسلمانوں کا پس منظر ہے جس میں کسی شخص کو قیامت کی بات زیادہ دور نہیں لگتی۔ یہود و نصاریٰ کے ہاں قرب قیامت کی جو پیش گوئیاں ہیں وہ حضرت مسیح کی آمد کے ار دگرد گھومتی ہیں ۔ بنی اسرائیل کے ہاں دو عظیم رسولوں کی آمد کی خوشخبری موجود تھی۔ ایک حضرت عیسی جو مسیح کے لقب سے سرفراز ہوئے اور دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ حضرت عیسیٰ جس وقت تشریف لائے اس زمانے میں بنی اسرائیل بدترین اخلاقی بحران کا شکار تھے ۔ ان کے اندر سے دینداری کی اصل روح ختم ہو چکی تھی اور سارا زور چند ظاہری اعمال پر تھا۔ بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واضح قانون جو تورات اور قرآن دونوں میں بیان ہوا ہے یہ تھا کہ وہ ایمان و اخلاق کے تقاضوں کو پورا کریں گے تو ان کو زمین میں سیاسی اقتدار بھی دے دیا جائے گا۔ اس کے برعکس کرنے کی صورت میں ان پر سزا اور مغلوبیت نافذ ہو گی۔ حضرت عیسیٰ کی آمد کے وقت بنی اسرائیل مغلوبیت کی اسی سزا کا شکار تھے اور ایمان و اخلاق میں پستی کی بنا پر رومیوں کے غلبے اور غلامی میں مبتلا تھے ۔ تاہم وہ اس امید میں جی رہے تھے کہ آنے والا مسیح دراصل ایک فوجی اور سیاسی لیڈر ہو گا جو ان کو اس مغلوبیت سے نجات دے گا۔

ان کی امیدوں کے برعکس حضرت عیسیٰ آئے تو نھوں نے کسی قسم کی جنگی اور سیاسی جدوجہد کرنے کے بجائے یہود کی اخلاقی پستی پر سخت تنقید کی۔ یہ تنقید ان لوگوں کے لیے ناقابل قبول تھی۔ وہ تو اس زعم میں تھے کہ آنے والامسیح آئے گا اور انھیں عروج و اقتدار دلادے گا۔ بلاشبہ یہی ہوتا اگر یہود مسیح کی بات مان لیتے ، مگر اس کاراستہ جنگ و جدل نہیں بلکہ ایمان کی تجدید اور اخلاقی اصلاح کی شکل میں تھا۔ یہود یہ کرنے کے لیے تیار نہ تھے اس لیے انہوں نے اپنے مسیح موعود کی تکذیب کر دی اور ان کے قتل کے درپے ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو ان کے شر سے بچاکر اپنے پاس اٹھالیا اور رسول کے کفر کی پاداش میں یہود پر وہ عذاب مسلط ہو گیا جس کی پیش گوئی حضرت عیسیٰ نے اپنے اٹھائے جانے سے چند ایام پہلے کی تھی، (متی1:24)۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ یہود کے لیے حضرت مسیح کی تکذیب کے بعد رومیوں کی غلامی سے نکلنے کا واحد راستہ ’تلوار‘ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے وقت کی سول سپر پاور کے خلاف بغاوت کر دی۔ مگر یہی ان پر عذاب الٰہی کا کوڑ ا برسنے کا سبب بن گیا۔ خدا کی مدد کے بغیر وہ رومیوں کے لیے تر نوالہ تھے ۔ چنانچہ مسیح کے چند برس بعد مشہور رومی حکمران نیرو کے دور میں ہونے والی یہود کی اس بغاوت کو کچلنے ٹائٹس رومی آیا۔ حضرت عیسیٰ کی پیش گوئی کے عین مطابق یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ لاکھوں یہود مارے گئے اور باقی جلا وطن کر دیے گئے ۔ ہیکل سلیمانی تباہ و برباد کر دیا گیا سوائے اس ایک دیوار کے جس کے سامنے کھڑ ے ہوئے یہود آج تک روتے رہتے ہیں اور اسی بنا پر اسے دیوار گریہ کہا جاتا ہے ۔

یہود کو پھر بھی عقل نہ آئی اور انہوں نے مسیح کے بعد اپنے عروج کے دوسرے ممکنہ راستے یعنی رسالت محمدی پر ایمان لانے کے بجائے رسول عربی کا بھی انکار کر دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنی امیدیں اس ’مسیح‘ کی آمد سے وابستہ کیے رکھیں جو پہلے ہی آ چکا تھا، مگر انھوں نے اس کا انکار کر دیا تھا۔ ٹائٹس رومی نے یہود کو یروشلم سے جلاوطن کر دیا تھا۔ اس جلاوطنی کے تقریباً دو ہزار سالہ دور میں ان کی مذہبی قیادت نے ان کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے مسیح کی آمد کے تصور کو برقرار رکھا اور ان کو یہ یقین دلایا کہ وہ یہود کو دوبارہ یروشلم میں آباد کرے گا۔

تاہم یہود کا غیر مذہبی طبقہ جو ان پیش گوئیوں میں نہیں جی رہا تھا اس نے سیاسی، سماجی، معاشی اور علمی میدانوں میں مسلسل جدوجہد کی اور آخر کار مسلمانوں کی کمزوریوں اور حماقتوں کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کی مملکت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس واقعہ سے یہود کے مذہبی لوگوں کو ایک نئی زندگی مل گئی اور اب یہود کی فکری قیادت سیکولر یہود کے بجائے ان مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں میں منتقل ہورہی ہے جو اپنے آنے والے مسیح کا انتظار کر رہے ہیں ، جس کی آمد کے ساتھ وہ ایک زبردست جنگ (Armageddon) کے بعد غیر عبرانیوں کو فلسطین سے نکال کر اس پورے علاقے میں اپنی مملکت قائم کرنے اور ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کے خواہشمند ہیں ۔ یہ سارے واقعات ان کے نزدیک قرب قیامت کی علامت ہیں جس کا آغاز یہود کی فلسطین واپسی سے ہو گیا ہے ۔

مسیحی حضرات کی غلط فہمی
مسیحیوں کو ایک دوسرے پہلو سے زبردست غلط فہمی لگی ہے ۔ یہود نے اپنے مسیح کو نہیں مانا اور ابھی تک اس کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ انجیل میں ایک دوسری پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس پیش گوئی کے کئی اجزا تھے ۔ یعنی رومیوں کی یروشلم پر چڑ ھائی اور ان کے ہاتھوں اس مقدس شہر کی تباہی، رومی بت پرستوں کے مسیح کے نام لیواؤں پر ظلم و ستم، خود عیسائیوں کے اندر گمراہیوں کا پھیل جانا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ عالمی سطح پر توحید کی دعوت اور اتمام حجت، (متی 1-14:24)۔ مگر بدقسمتی سے مسیحیوں نے حضرت عیسیٰ کی اس پیش گوئی کو کچھ تو سمجھنے میں غلطی کی اور کچھ تحریف کر کے رسول اللہ کی آمد کو مسیح کی آمدِ ثانی سے بدل دیا۔ چنانچہ جس طرح یہود نے اپنے حقیقی نجات دہندہ مسیح کو نہیں مانا اور ابھی تک مسیح کی آمد کے منتظر ہیں ، ٹھیک اسی طرح عیسائیوں نے رسول اللہ کو نہیں مانا اور نبی عربی کے بارے میں انجیل کی تمام پیش گوئیوں کو مسیح سے منسو ب کر دیا۔ اس لیے وہ بھی آج تک مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں ۔

مسیحی حضرات نے کس طرح دھوکا کھایا اس کی ایک نمایاں مثال حضرت عیسیٰ کا و ہ خواب ہے جو انجیل میں مکاشفے کے نام سے موجود ہے ۔ اس خواب میں آخری زمانے کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی گئی ہیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں ۔ مکاشفے کے باب 19 کی آیت 11 سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی شروع ہوتی ہے ۔ پھر تمثیلی اسلوب میں صحابۂ کرام کے مڈل ایسٹ پر غلبے اور مسیحیت میں پیدا ہونے والے شرک کی گمراہی کے واضح ہوجانے کا بیان ہے ۔ ساتھ ہی یہ وضاحت ہے کہ اس کے بعد شیطان کو ہزار برس کے لیے قید کر دیاجائے گا۔ یہ دراصل توحید پر مبنی مسلمانوں کے عالمی اقتدر کی ایک تعبیر ہے ۔ رسول اللہ اور صحابہ کے ہاتھوں برپا ہونے والے سزا و جزا کے ان واقعات کو مکاشفے میں پہلی قیامت کہا گیا ہے ۔

پھر یہ پیش گوئی ہے کہ ہزار سال بعد شیطان کوکھول دیا جائے گا اور وہ یاجوج ماجوج کو گمراہ کرے گا جو زمین میں جنگ و فساد برپا کر دیں گے ، (مکاشفہ 7-8:20)۔ یہ دراصل یورپ میں آنے والے اس فکری انقلاب کی تعبیر ہے جسے احیائے علوم (Renaissance) کہا جاتا ہے اور جس نے زندگی کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں ۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھیک ہزار برس بعد یعنی سولہویں صدی میں پیش آیا۔ اس فکری انقلاب کے نتیجے میں ایک طرف صنعتی انقلاب آیا اور دوسری طرف خدا اور آخرت کا انکار کر دیا گیا۔ انہی چیزوں کو لے کر یورپی اقوام اپنے وطن سے نکلیں اور دنیا بھر میں جنگ و فساد برپا کر دیا جس کا نقطۂ عروج دو عظیم جنگوں کی شکل میں سامنے آیا۔

یہ وہ واقعات ہیں جنھیں مکاشفے میں ہزار سال بعد شیطان کے آزاد ہوجانے ، یاجوج ماجوج کو گمراہ کر کے لڑ ائی کی آگ پھیلانے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ حضرت عیسیٰ کے اس خواب کا ایک ایک جز اپنی پوری تعبیر پا چکا ہے ۔ تاہم جب عیسائیوں نے حضور ہی کو نہیں مانا اور اس پیش گوئی میں رسول اللہ کے نام کو ہٹا کر اس کی جگہ مسیح کی آمد ثانی کو مراد لے لیا تو ان کے لحاظ سے یہ سارے واقعات ابھی پیش ہی نہیں آئے اور وہ ابھی تک مسیح کی آمد کے منتظر ہیں ۔ البتہ ہزار سال کے ذکر سے ان کا ذہن اس طرف چلا جاتا ہے کہ عیسوی کیلنڈر میں ہزار سال ہونے پر مسیح کی آمد ثانی ہو گی اور پھر ہزار برس تک مسیح کا دور باقی رہے گا جسے وہ لوگ آسمانی بادشاہی کہتے ہیں ۔ چنانچہ پہلے ہزار سال پورے ہونے پر عیسائیوں نے صلیبی جنگیں برپا کر دی تھیں تاکہ یروشلم پر قبضہ کر کے وہاں مسیح کا استقبال کریں ۔ جب کہ دوسرے ہزار سال پورے ہونے پر ایک دفعہ پھر وہ مسیح کی آمد، اس کے بعد یاجوج ماجوج کے ساتھ ہونے والی عظیم جنگ (Armageddon) کے منتظر ہیں ۔ یہود کے لیے ان کی مملکت کا قیام اگر آخری زمانے کی نشانی تھی تو نصاریٰ کے لیے دوسرے ہزار برس (Millennium) کا آغاز آخری زمانے کی ایک علامت ہے ۔
رسول اللہ کا عالمی منصب: انذار قیامت
یہ وہ پس منظر ہے جس میں تمام اقوام موجودہ دور کو آخری زمانہ سمجھتی ہیں ۔ میرے نزدیک اس ضمن کی اہم ترین بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب انسانیت کے لحاظ سے یہ تھا کہ آپ دنیا بھر کے لیے نذیر و بشیر ہیں ، (فرقان 1:25، سبا 28:34)۔ یعنی آپ دنیا کو قیامت کے بارے میں متنبہ کرنے آئے ہیں ۔ خوش قسمتی سے آج جب دنیا بھر میں زمانے کے اختتام کی باتیں ہورہی ہیں ، اقوام عالم قیامت کی بات کو سننے کے لیے ہمیشہ سے زیادہ تیار ہیں ۔ آج مسلمانوں کے لیے کرنے کا سب سے بڑ ا کام یہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے بعد آپ کے اس مشن کو پورا کرنا اپنا مقصد بنالیں ۔ یعنی قیامت اور آخرت کے بارے میں لوگوں کو متوجہ کریں ، جب تمام انسان ایک اللہ کے حضور پیش ہوکر اپنے اعمال کا جواب دیں گے ۔ اس روز نیک بندے جنت کی ابدی نعمتوں میں رہیں گے اور خدا کے نافرمان و سرکش جہنم کے گھڑ ے میں جاگریں گے ۔ یہی اس وقت مسلمانوں کے کرنے کا سب سے بڑ ا کام ہے ۔

مسلمانوں کے لیے عظیم موقع ہے ۔ ان کے پاس دین کامل موجود ہے ۔ وہ آخری کتاب، آخری شریعت اور دین حق کے امین ہیں ۔ رسالت محمدی کے پیغام کو اب کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ آپ نے سرزمین عرب میں اللہ کے حکم سے جو سزا و جزا برپا کی تھی وہ آپ کی سچائی اور قیامت کا سب سے بڑ ا ثبوت ہے ۔ مسلمانوں کو اس انفارمیشن ایج کا فائدہ اٹھا کر نبوت و رسالت کی اس بے مثال داستان محمدی کو دنیا بھر تک پہنچادینا ہے ۔ یہی ان کے لیے کرنے کا اصل کام ہے ۔ اسی میں ان کے ہر عروج اور کامیابی کا راستہ پوشیدہ ہے ۔

مصنف: ریحان احمد یوسفی

Comments Off

حيدر آبادی - سال 2011 – گولڈن جوبلی تحاریر

Dec
31

لیجئے صاحب ، اس سال کی آخری تحریر پیش خدمت ہے جو اتفاق سے ہمارے اس بلاگ پر سن 2011ء کی 50ویں پوسٹ ہے۔ اپنی اس اردو بلاگنگ پر جو ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم 2009ء میں زیادہ فعال رہے تھے جبکہ اس سال جملہ 67 تحاریر بلاگ پر پوسٹ ہوئیں تھیں۔ اس کے بعد سال 2008ء کا نمبر ہے جس کے کھاتے میں جملہ 63 تحریریں محفوظ ہیں۔ تیسرے نمبر پر 50 پوسٹوں کے ساتھ یہ اموات والا سال 2011ء ہے۔

یکم نومبر 2007ء کو بلاگ اسپاٹ (blogger.com) پر جب اپنا نیا بلاگ (ہمارا پچھلا بلاگ ایک اردو بلاگنگ سروس پر قائم تھا جو بلا اطلاع ختم کر دی گئی) شروع کیا تھا تو گمان نہیں تھا کہ اس کو باقاعدگی سے چلا سکیں گے کیونکہ ہمارے کچھ قریبی احباب کا اس مقولے پر زور ہے کہ ہماری فطرت میں ایک جگہ ٹک کر کام کرنے کی خو نہیں ہے۔ اب ہم ان کے سامنے سینہ ٹھوک ای-میل مارنے جا رہے ہیں کہ دیکھو پاشا! ہم نے تمہاری دھمکیوں کے باوجود پورے چار سال مکمل کر لئے بلاگنگ کے !

پورے پچاس پوسٹوں کو یار لوگ “گولڈن جوبلی” کہتے ہیں۔ اور کچھ تو اس پر “پورے پچاس ہزار روپے” کا انعام ملنے کی امید دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
سنا ؟ پورے پچاس ہجار ! اور یہ انعام اسلئے ہے کہ یہاں سے پچاس پچاس کوس دور بلاگنگ میدان میں جب بچہ رات کو روتا ہے تو ماں کہتی ہے سوجا بیٹا سوجا نہیں تو “حیدرآبادی” آ جائے گا ۔۔۔ تیری ناک میں دم کرنے ۔۔۔۔
لولززز ۔۔۔۔

“صاحب انعام ونام کی بات چھوڑئیے ، یہ بتائیے مٹھائی کب کھلا رہے ہیں؟”
ہمارے آفس میں بازو کی ڈیسک پر بیٹھے ایک سوڈانی صاحب فرماتے ہیں۔ اتفاق کی بات کہ اسی وقت ہمارے آفس کے ایک دوست چھٹی سے واپس کام پر لوٹے تھے اور ہماری خواہش پر کرنول کی مٹھائی لے آئے تھے ، وہی ہم نے اپنے کولیگ کو پیش کر دی۔
مٹھائی کے نام پر یاد آیا کہ ہم نے ہر چند کہ کرنول کی مشہور مٹھائی “بن کھوا” خصوصی طور پر منگوائی تھی۔ آج سے کوئی پچیس تیس سال پہلے ہمارے بچپن میں “بن کھوا” نامی مٹھائی کا اس قدر شہرہ تھا کہ جیسے آگرہ کا پیٹھا یا بنگال کا رس گلہ یا ممبئی کے افلاطون کا چرچا چہاردانگ عالم ہے۔
مگر افسوس کہ امتداد زمانہ نے اور “ہائی جینک [hygienic] سویٹس” کی دلخوش کن اصطلاح کے سہارے عصر حاضر کے مشینی کاروبار نے لگتا ہے سب ختم کر دیا۔
اس موضوع پر وضاحت کرتے ہوئے منصف ٹی۔وی میں برسرکار ہمارے کرنولی دوست سجاد الحسنین کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔

ظاہر سی بات ہے کہ نئی نسل پزا اور برگر کے چکر میں مشغول ہے اور مٹھائی فروش بن کو کاٹ کر اس میں کھوا بھرنا شان کے خلاف سمجھنے لگے ہیں۔ “بن کھوا” نامی مٹھائی پوچھی جائے تو آجکل ہوتا یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے بن تھمایا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹی سی پلیٹ جس میں ذرا سا کھوا رکھا ہوتا ہے۔
قادر خان حلوائی کرنولی کے زمانے کے لوگ اب رہے کہاں جو ریت رواج تہذیب اور ذائقے پر جان دیا کرتے تھے۔ آج وہی مٹھائی تو ہے مگر اس میں جو خلوصِ شیریں ہوا کرتا تھا ، وہ عنقا ہے۔

سچ کہا سجاد پاشا بھائی نے۔ صرف مٹھائی کی کیا بات کریں ۔۔۔۔
وقت نے تو بستی کی ، شکل ہی بدل دی ہے
جن پہ رونقیں تھیں وہ ، بام و در نہیں ملتے

چاہتوں بھرے کمرے ، دل کھلے ، کھلا آنگن
اب تو ڈھونڈنے پر بھی ، ایسے گھر نہیں ملتے

سب نے ہر ضرورت سے ، کر رکھا ہے سمجھوتا
لوگ ملتے رہتے ہیں ، دل مگر نہیں ملتے

Comments Off

حيدر آبادی - سال 2011 – گولڈن جوبلی تحاریر

Dec
31

لیجئے صاحب ، اس سال کی آخری تحریر پیش خدمت ہے جو اتفاق سے ہمارے اس بلاگ پر سن 2011ء کی 50ویں پوسٹ ہے۔ اپنی اس اردو بلاگنگ پر جو ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم 2009ء میں زیادہ فعال رہے تھے جبکہ اس سال جملہ 67 تحاریر بلاگ پر پوسٹ ہوئیں تھیں۔ اس کے بعد سال 2008ء کا نمبر ہے جس کے کھاتے میں جملہ 63 تحریریں محفوظ ہیں۔ تیسرے نمبر پر 50 پوسٹوں کے ساتھ یہ اموات والا سال 2011ء ہے۔

یکم نومبر 2007ء کو بلاگ اسپاٹ (blogger.com) پر جب اپنا نیا بلاگ (ہمارا پچھلا بلاگ ایک اردو بلاگنگ سروس پر قائم تھا جو بلا اطلاع ختم کر دی گئی) شروع کیا تھا تو گمان نہیں تھا کہ اس کو باقاعدگی سے چلا سکیں گے کیونکہ ہمارے کچھ قریبی احباب کا اس مقولے پر زور ہے کہ ہماری فطرت میں ایک جگہ ٹک کر کام کرنے کی خو نہیں ہے۔ اب ہم ان کے سامنے سینہ ٹھوک ای-میل مارنے جا رہے ہیں کہ دیکھو پاشا! ہم نے تمہاری دھمکیوں کے باوجود پورے چار سال مکمل کر لئے بلاگنگ کے !

پورے پچاس پوسٹوں کو یار لوگ “گولڈن جوبلی” کہتے ہیں۔ اور کچھ تو اس پر “پورے پچاس ہزار روپے” کا انعام ملنے کی امید دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
سنا ؟ پورے پچاس ہجار ! اور یہ انعام اسلئے ہے کہ یہاں سے پچاس پچاس کوس دور بلاگنگ میدان میں جب بچہ رات کو روتا ہے تو ماں کہتی ہے سوجا بیٹا سوجا نہیں تو “حیدرآبادی” آ جائے گا ۔۔۔ تیری ناک میں دم کرنے ۔۔۔۔
لولززز ۔۔۔۔

“صاحب انعام ونام کی بات چھوڑئیے ، یہ بتائیے مٹھائی کب کھلا رہے ہیں؟”
ہمارے آفس میں بازو کی ڈیسک پر بیٹھے ایک سوڈانی صاحب فرماتے ہیں۔ اتفاق کی بات کہ اسی وقت ہمارے آفس کے ایک دوست چھٹی سے واپس کام پر لوٹے تھے اور ہماری خواہش پر کرنول کی مٹھائی لے آئے تھے ، وہی ہم نے اپنے کولیگ کو پیش کر دی۔
مٹھائی کے نام پر یاد آیا کہ ہم نے ہر چند کہ کرنول کی مشہور مٹھائی “بن کھوا” خصوصی طور پر منگوائی تھی۔ آج سے کوئی پچیس تیس سال پہلے ہمارے بچپن میں “بن کھوا” نامی مٹھائی کا اس قدر شہرہ تھا کہ جیسے آگرہ کا پیٹھا یا بنگال کا رس گلہ یا ممبئی کے افلاطون کا چرچا چہاردانگ عالم ہے۔
مگر افسوس کہ امتداد زمانہ نے اور “ہائی جینک [hygienic] سویٹس” کی دلخوش کن اصطلاح کے سہارے عصر حاضر کے مشینی کاروبار نے لگتا ہے سب ختم کر دیا۔
اس موضوع پر وضاحت کرتے ہوئے منصف ٹی۔وی میں برسرکار ہمارے کرنولی دوست سجاد الحسنین کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔

ظاہر سی بات ہے کہ نئی نسل پزا اور برگر کے چکر میں مشغول ہے اور مٹھائی فروش بن کو کاٹ کر اس میں کھوا بھرنا شان کے خلاف سمجھنے لگے ہیں۔ “بن کھوا” نامی مٹھائی پوچھی جائے تو آجکل ہوتا یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے بن تھمایا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹی سی پلیٹ جس میں ذرا سا کھوا رکھا ہوتا ہے۔
قادر خان حلوائی کرنولی کے زمانے کے لوگ اب رہے کہاں جو ریت رواج تہذیب اور ذائقے پر جان دیا کرتے تھے۔ آج وہی مٹھائی تو ہے مگر اس میں جو خلوصِ شیریں ہوا کرتا تھا ، وہ عنقا ہے۔

سچ کہا سجاد پاشا بھائی نے۔ صرف مٹھائی کی کیا بات کریں ۔۔۔۔
وقت نے تو بستی کی ، شکل ہی بدل دی ہے
جن پہ رونقیں تھیں وہ ، بام و در نہیں ملتے

چاہتوں بھرے کمرے ، دل کھلے ، کھلا آنگن
اب تو ڈھونڈنے پر بھی ، ایسے گھر نہیں ملتے

سب نے ہر ضرورت سے ، کر رکھا ہے سمجھوتا
لوگ ملتے رہتے ہیں ، دل مگر نہیں ملتے

Comments Off

انکل ٹام - دنیاوی پریشانیاں

Dec
31

 

اس دنیا میں ہر کوئی اپنی شخصیت میں مگن ہے ، ہر کسی کی زندگی میں سے شروع ہر کر میں پر ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ الغرض یہ دنیا کسی نہ کسی حد تک خودغرضی پر مبنی ہے، ایسا ہے جیسے انسان اس خود غرض ماحول میں ، خود غرض طریقے سے خود غرضی کی زندگی جیتے ہیں ۔ اس دنیا کے لوگ اس سے زیادہ خود غرض ہیں جتنے دکھتے ہیں۔ ہر انسان یہاں یہ چاہتا ہے کہ اسکی زندگی سے تعلق رکھنے والا صرف اور صرف اسکے بارے میں سوچے اور اسکی فکر کرے ۔ ہر کوئی اپنے حقوق نہ ملنے کی بات کرتا ہے ۔ کبھی کوئی کسی کو حقوق دینے کی بات نہیں کرتا ۔

اگر آپ دنیا کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہیں تو یہ دنیا بھی آپکے ساتھ ہنستی کھیلتی ہے اور آپ کی شخصیت سے اپنی زندگی کے مزے اڑاتی ہے ۔ اگر آپ اداس ہو کر کمرے  میں بیٹھ جاتے ہیں تو کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ آپ اداس کیوں ہیں ۔ جو لوگ زیادہ ہی فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں وہ اپنی طرف سے گھڑے ہوئے مفروضات پر یقین کرتے ہوئے آپکو بیزاری سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کوئی اتنی کوشش نہیں کرتا کہ آپ کی شخصیت کے بھید کھول کر آپکے چہرے پر مسکراہٹ بھر دے ۔ ایسا صرف فلموں میں ہوتا ہے کہ کسی اداس لڑکی کی زندگی میں اچانک ایک خوش شکل ، امیر پیسے والا سمارٹ ہیرو اسکی زندگی میں داخل ہوتا ہے اور اسکی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتا ہے ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ فلم میکرز بھی ہمیشہ کسی لڑکی کی زندگی میں ہی خوشیوں کو کیوں دیکھتے ہیں ؟؟؟ کیا کبھی کوئی لڑکا اداس نہیں ہو سکتا ؟؟؟ کیا کبھی کسی لڑکے کی زندگی میں کوئی امیر ، خوش شکل اور سمارٹ لڑکی داخل ہو کر اسکی اداس زندگی کو خوشیوں سے نہیں بھر سکتی ؟؟؟

اگر آپ کبھی زندگی سے اداس بھی ہو جائیں تو لوگ آپ کی پریشانی کا حل ڈھونڈنے کی بجائے آپکو دکھی آتما کا خطاب دے کر مذاق اڑائیں گے ۔ اگر آپ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں تو اکثر کا خیال ہوگا کہ آپکو شادی کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ حیرت اس امر پر ہے کہ کیا انسان کی زندگی میں شادی کے علاوہ کوئی اور پرابلم نہیں ہو سکتی ؟؟؟

Comments Off

ابوشامل - [ریکارڈز] سال 2011ء کے بہترین ایک روزہ گیند باز

Dec
31

کرکٹ اب بہت زیادہ بلے باز دوست یعنی بیٹسمین فرینڈلی کھیل بنتا جا رہا ہے۔ شائقین کی چھکے اور چوکے دیکھنے کی بڑھتی ہوئی خواہشوں اور ‘ہائی اسکورنگ گیمز’ کا چلن بلے باز دوست وکٹیں تخلیق کرنے کا سبب بن رہا ہے اس لیے اب گیند بازوں کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے لیکن اس کے باوجود ایک چیز گیند بازوں کے حق میں جا رہی ہے، وہ ہے بلے بازوں کی بڑھتی ہوئی جارح مزاجی۔ جس کے باعث ایک تو وہ باؤلرز کو وکٹیں تھما دیتے ہیں وہیں مختصر طرز کی کرکٹ میں اسپنرز کا اہم بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے سال 2011ء میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے 10 میں سے 3 باؤلرز اسپنر ہی رہے۔

Lasith Malinga grabs 3rd ODI hat trick

لاستھ مالنگا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی تاریخ میں پہلی بار تین ہیٹ ٹرک کرنے والے باؤلر بھی بنے (تصویر: AP)

گو کہ سری لنکا کے لیے ایک لحاظ سے یہ سال بہت زیادہ مایوس کن رہا۔ طویل طرز کی کرکٹ میں وہ تمام سال کی جدوجہد کے بعد کہیں جا کر آخری ایام میں ایک مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوا وہیں ایک روزہ کرکٹ میں بھی سوائے عالمی کپ کی عمدہ کارکردگی کے اس کے ریکارڈ پر بہت زیادہ فتوحات شامل نہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف اپنی ہی سرزمین پر شکست، انگلستان سے سیریز ہارنا اور پھر سب سے زیادہ مایوس کن یہ کہ پاکستان کے خلاف سیریز میں بھی 4-1 کی ذلت آمیز شکست 2011ء کو سری لنکا کے لیے ایک لاحاصل سال قرار دینے کے لیے کافی تھی۔ عالمی کپ میں بھی فائنل میں پہنچ کر ہار جانا اس کے لیے کافی دل شکستہ لمحہ ہوگا۔ البتہ انفرادی سطح پر ایک روزہ کرکٹ میں سری لنکن کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے 10 میں سے 4 بلے بازوں کا تعلق سری لنکا سے رہا تو وہیں گیند بازوں میں بھی سری لنکا کے لاستھ مالنگا سب سے زیادہ وکٹوں کے ساتھ سرفہرست رہے۔ انہوں نے 24 مقابلوں میں 19.25 کے شاندار اوسط سے 48 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین کارکردگی 38 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرنا رہی۔ مالنگا نے رواں سال تیسری ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا اور یوں کرکٹ کی تاریخ کے واحد گیند باز بن گئے ہیں جنہوں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں تین ہیٹ ٹرک کر رکھی ہیں۔

پاکستان کے شاہد آفریدی کے پاس بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اچھی کارکردگی پیش کر کے سرفہرست پوزیشن حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا تاہم انہوں نے یہ موقع گنوا دیا اور یوں سال 2011ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے۔ شاہد نے 27 مقابلوں میں 20.82 کی اوسط سے 45 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ 16 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرنا ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ حیران کن طور پر پاکستان کے دو مزید گیند باز بھی سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں شامل ہیں اور اتفاق یہ کہ وہ بھی اسپنرز ہی ہیں یعنی کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ۔ سعید اجمل نے 20 مقابلوں میں 34 جبکہ محمد حفیظ نے 32 مقابلوں میں 32 وکٹیں حاصل کر کے اس فہرست میں جگہ پائی ہے۔

اس کے علاوہ فہرست میں آسٹریلیا کے مچل جانسن اور بریٹ لی، بھارت کے مناف پٹیل اور ظہیر خان اور انگلستان کے ٹم بریسنن اور گریم سوان بھی موجود ہیں۔

سال 2011ء ایک روزہ: سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز

نام ملک مقابلے اوورز میڈنز رنز وکٹیں رنز فی اوور بہترین گیندبازی اوسط
لاستھ مالنگا سری لنکا 24 192.1 12 924 48 4.80 6/38 19.25
شاہد آفریدی پاکستان 27 224.0 9 937 45 4.18 5/16 20.82
مچل جانسن آسٹریلیا 22 184.1 10 817 39 4.43 6/31 20.94
سعید اجمل پاکستان 20 166.4 17 581 34 3.48 4/35 17.08
بریٹ لی آسٹریلیا 19 156.1 10 717 33 4.59 4/15 21.72
محمد حفیظ پاکستان 32 229.0 15 811 32 3.54 3/27 25.34
مناف پٹیل بھارت 21 163.3 8 879 32 5.37 4/29 27.46
ٹم بریسنن انگلستان 24 210.2 10 1136 32 5.40 5/48 35.50
گریم سوان انگلستان 21 192.0 11 853 31 4.44 3/18 27.51
ظہیر خان بھارت 14 12.75 6 620 30 4.85 3/20 20.66

مشابہ تحاریر:

Comments Off

ابوشامل - [ریکارڈز] سال 2011ء کے بہترین ایک روزہ بلے باز

Dec
31

ایک روزہ کرکٹ کے لیے سال 2011ء کی خاص اہمیت رہی کیونکہ اس سال دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ یعنی عالمی کپ منعقد ہوا جس میں میزبان بھارت نے فائنل جیت کر 28 سال بعد عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بھارت کی ایک روزہ کرکٹ میں سال بھر کی کارکردگی بہت عمدہ رہی اور اس میں سب سے بہترین حصہ بلاشبہ بلے بازوں ہی کا رہا جو بھارتی ٹیم کی اصل قوت رہے ہیں۔

رواں سال سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز بھارت کے ویرات کوہلی کو حاصل ہوا جنہوں نے کھیلے گئے 34 مقابلوں میں 47.62 کی زبردست اوسط سے 1381 رنز بنائے جن میں 4 سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں شامل رہیں۔

ویرات کوہلی نے سال بھر میں 4 سنچریوں اور 8 نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ 1381 رنز بنائے (تصویر: AFP)

ویرات کوہلی نے سال بھر میں 4 سنچریوں اور 8 نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ 1381 رنز بنائے (تصویر: AFP)

سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں دوسرا نام انگلستان کے جوناتھن ٹراٹ کا ہے۔ جنہوں نے 29 مقابلوں میں 52.60 کی اوسط سے 1315 رنز بنائے۔ ان میں 2 سنچریاں اور سب سے زیادہ 10 نصف سنچریاں شامل رہیں۔

رواں سال سب سے زیادہ رنز بنانے والے دس بلے بازوں میں پاکستان کے محمد حفیظ اور مصباح الحق شامل ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے یہ سال بہت یادگار رہا۔ خصوصاً محمد حفیظ، جنہوں نے سال بھر بہترین آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنی اہلیت کو منوایا ہے اور نہ صرف بلے بازوں میں نمایاں مقام پایاں بلکہ گیند بازوں اور آل راؤنڈرز کی فہرستوں میں بھی شامل ہیں۔ محمد حفیظ طویل عرصے کے بعد ایک روزہ کرکٹ کے کلینڈر ایئر میں ایک ہزار رنز بنانے والے پاکستانی بلے باز بنے۔ انہوں نے 32 مقابلوں میں 1075 رنز بنائے جن میں 3 سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں شامل رہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے قائد مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان نے سال میں سب سے زیادہ ایک روزہ مقابلے جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جس میں ان کے اپنے بلے کا کردار بھی بہت اہم رہا۔ مصباح نے 31 مقابلوں میں 964 رنز بنائے جس میں 9 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

اگر سال کی سب سے بہترین انفرادی اننگز پر نظر دوڑائی جائی تو وہ بلاشبہ بھارت کے وریندر سہواگ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخ کی طویل ترین انفرادی اننگز ہی ہے جس میں انہوں نے 219 رنز بنائے لیکن زیر نظر فہرست میں، جس میں سال 2011ء میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے 10 بلے باز شامل ہیں، میں سب سے شاندار اننگز آسٹریلیا کے آل راؤنڈر شین واٹسن کی ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ناقابل شکست 185 رنز بنائے۔ بدقسمتی سے بنگلہ دیش کا دیا گیا ہدف کم تھا، ورنہ اس روز شین واٹسن کئی ریکارڈز اپنے نام کر لیتے۔

سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں سے 4 کا تعلق سری لنکا سے ہے۔ جن کے لیے سوائے عالمی کپ کے فائنل تک پہنچنے کے 2011ء سے کوئی خوشگوار یاد وابستہ نہیں رہی۔ اُس شکست کے بعد سری لنکا پر ایسا زوال طاری ہوا کہ ایسا لگتا تھا کہ فتح اس سے روٹھ چکی ہے۔ انگلستان، آسٹریلیا اور پاکستان کے خلاف مسلسل تین سیریز میں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ بہرحال، اس کے باوجود انفرادی سطح پر چند بلے بازوں کی کارکردگی بہت عمدہ رہی جیسا کہ کمار سنگاکارا، مہیلا جے وردھنے، اوپل تھارنگا اور تلکارتنے دلشان کی جو مندرجہ فہرست میں شامل ہیں۔ آئیے ملاحظہ کرتے ہيں:

سال 2011ء ایک روزہ کے بہترین بلے باز

نام ملک مقابلے اننگز رنز بہترین اسکور اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
ویرات کوہلی بھارت 34 34 1381 117 47.62 4 8
جوناتھن ٹراٹ انگلستان 29 28 1315 137 52.60 2 10
شین واٹسن آسٹریلیا 23 22 1139 185* 56.95 2 8
کمار سنگاکارا سری لنکا 27 25 1127 111 51.22 1 9
محمد حفیظ پاکستان 32 32 1075 139* 37.06 3 5
مہیلا جےوردھنے سری لنکا 27 24 1032 144 46.90 3 7
مصباح الحق پاکستان 31 26 964 93* 53.55 0 9
مائیکل کلارک آسٹریلیا 24 22 900 101 56.25 1 6
اوپل تھارنگا سری لنکا 22 21 826 133 45.88 4 2
تلکارتنے دلشان سری لنکا 28 27 820 144 31.53 2 4

مشابہ تحاریر:

Comments Off

محمد یاسر علی - گلہ تو ہے

Dec
31

ساری دنیا کے ستم سہے ہم نے 

 کسی سے کوئی گلہ نہ کیا ہم نے

دنیا والوں نے جب بھی ہم کو دیکھا 

حقارت سے ہی دیکھا 

اس کا بھی ہم کو

 کسی سے کوئی گلہ نہیں

ہمیں تو اس سے بھی…



مکمل تحریر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے برائے مہربانی محمد یاسر علی کی بیاض کا وزٹ کریں ۔ شکریہ

Comments Off

Featuring YD Feedwordpress Content Filter Plugin